سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(302) بچہ دوسرے شوہر کے لئے اور اختیار پہلے کے لئے

  • 9757
  • تاریخ اشاعت : 2014-02-02
  • مشاہدات : 576

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک شخص عرصہ دراز تک اپنی بیوی سے غائب ہو گیا حتیٰ کہ اس کے بارے میں گمان یہ ہوا کہ وہ گم ہو گیا ہے لہٰذا اس کی بیوی نے ایک اور شخص سے شادی کر لی اور اس سے ایک بچے کو بھی جنم دے دیا کئی سالوں کے بعد پہلا شوہر بھی واپس آ گیا تو کیا اس صورت میں دوسرے شوہر کے ساتھ یہ شادی برقرار رہے گی یا فسخ ہو جائے گی؟ کیا پہلے شوہر کو بیوی واپس لینے کا حق حاصل ہے؟ اور اگر حق حاصل ہے تو کیا نکاح دوبارہ  ہو گا؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص عرصہ دراز تک اپنی بیوی سے غائب ہو گیا حتیٰ کہ اس کے بارے میں گمان یہ ہوا کہ وہ گم ہو گیا ہے لہٰذا اس کی بیوی نے ایک اور شخص سے شادی کر لی اور اس سے ایک بچے کو بھی جنم دے دیا کئی سالوں کے بعد پہلا شوہر بھی واپس آ گیا تو کیا اس صورت میں دوسرے شوہر کے ساتھ یہ شادی برقرار رہے گی یا فسخ ہو جائے گی؟ کیا پہلے شوہر کو بیوی واپس لینے کا حق حاصل ہے؟ اور اگر حق حاصل ہے تو کیا نکاح دوبارہ  ہو گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ مسئلہ منقود الخبر کی بیوی سے شادی کے نام سے معروف ہے، اگر شوہر گم ہو جائے اس کی تلاش کی مدت ختم ہو گئی ہو اور اب اس کی مدت کا حکم لگا دیا گیا  اور عورت نے عدت پوری کرنے کے بعد کسی دوسرے مرد سے شادی کر لی ہو اور پھر پہلا شوہر وہ بھی واپس آ جائے تو اسے اختیار حاصل ہے کہ اگر وہ چاہے تو اس شادی کو برقرار رہنے دے اور اگر چاہے تو اپنی بیوی کو واپس لے لے، اگر وہ اس شادی کو برقرار رہنے دے تو معاملہ واضح ہے اور عقد صحیح ہے اور اگر وہ اپنی بیوی کو واپس لینا چاہے تو بیوی اس کے پاس لوٹ جائے گی لیکن وہ اس وقت تک اس سے مباشرت نہیں کر سکے گا جب تک دوسرے شوہر کی طرف سے عدت پوری نہ ہو جائے گی ہاں البتہ اسے عقد جدید کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ایسی کوئی چیز موجود نہیں ہے جس سے اس کا نکاح باطل ہو گیا ہو کہ جس کی وجہ سے تجدید نکاح کی ضرورت ہو ، بچہ دوسرے شوہر کا ہو گا کیونکہ وہ شرعی بچہ ہے لہٰذا وہ اپنے باپ ہی کی طرف منسوب ہو گا کیونکہ وہ شرعی نکاح کے نتیجے میں پید ہوا ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص279

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ