سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(216) شادی کے لئے شرط

  • 9671
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-29
  • مشاہدات : 1077

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض ولی اپنی بیٹیوں کی شادی کے موقع پر یہ شرط لگا دیتے ہیں کہ بیٹی شادی کے بعد بھی اپنی تعلیم جاری رکھے گی یا یہ کہ وہ تعلیم سے فراغت کے بعد ملازمت کرے گی تو اس کی طرح شرط جائز ہے؟ اگر شادی کے بعد اس طرح کی شرط پر عمل نہ ہو سکے تو اس کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شادی کے وقت شوہر کے ساتھ جو شرط کی جائے اگر وہ شرعاً حرام نہ ہو تو اسے پورا کرنا لازم ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے۔

(( أحق الشروط أن توفوا به ما استحللتم به الفروج )) ( صحيح البخاري )

’’ جن شرطوں کو پورا کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے ، وہ ہیں جن کے ساتھ تم شرم گاہوں کو حلال کرتے ہو۔‘‘

لیکن بیوی اور اس کے وارثوں کو چاہیے کہ وہ اس طرح کی شرطیں عائد نہ کیا کریں جو سوال میں مذکور ہیں بلکہ ان مسائل کو نکاح کے بعد میاں بیوی پر چھوڑ دیں کہ وہ باہمی اتفاق سے جو چاہیں آپس میں طے کر لیں اور یہ سبھی جانتے ہیں کہ مرد شادی ا لئے کرتا ہے کہ بیوی اس کے بچوں کی تربیت کرے اور اس کی خدمت کرے۔ وہ شادی اس لئے نہیں کرتا کہ بیوی کام کرے اور وہ اسے کبھی کبھار ہی مل سکے لہٰذا زیادہ بہتر اور افضل یہی ہے کہ اس طرح کے امور میں آسانی کو پیش نظر رکھا جائے اور اس طرح کی شرطیں عائد نہ کی جائیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص178

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ