سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

انسان کب زکوۃ لے سکتا ہے؟

  • 9446
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-18
  • مشاہدات : 439

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مفتی صاحب میرے پاس آرائش اور سہو لیات کی اکثر بلکہ تمام چیزیں میسر ہیں اور میرے پاس میری اپنی ذاتی بائیک بھی ہے اور اپنا گھر بھی اور اس گھر کی قیمت ایک کروڑ روپے ہے اور میرے پاس نقد بیس ہزار روپے ہیں اور میں اسّی ہزار کا قرض دار ہوں ۔جو قرض دینے کا مقررہ وقت تھا وہ پورا ہوچکا ہے ۔ کیا مجھ جیسا غارم زکوۃ کا مستحق ہو سکتا ہے؟

کیا میں زکوۃ لے کر اسّی ہزار کا قرضہ اتار سکتا ہوں ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ کی بیان کردہ صورت کے مطابق ما شاء اللہ آپ کے پاس اللہ کی دی ہوئی ہر نعمت موجود ہے،آپ کو زکوۃ لے کر قرض اتارنے کی بجائے اس کی کوئی اور صورت پیدا کرنی چاہئے،آپ نے اس مہنگے گھر اور بائیک کو کیا قبر میں ساتھ لے کر جانا ہے۔میرے خیال میں آپ اتنے بڑے غارم نہیں ہیں ،جس سے اسی ہزار روپے بھی ادا نہ ہوسکتے ہوں۔آپ کسی دوسرے سے قرض لیکر وقتی طور پر اس کو ادا کر دیں۔ورنہ تو بڑی بڑی حکومتیں بھی مقروض ہوتی ہیں۔

اور پھر زکوۃ تو لوگوں کے مالوں کا میل ہے۔جسے قبول کرنا آپ جیسے کروڑ روپے مالیت کے مالک کے لئے درست نہیں ہے۔ابھی اس معاشرے میں آپ سے بہت زیادہ غریب لوگ موجود ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ