سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

دوسری کرنسی میں قرض کا ادا کرنا

  • 9416
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-16
  • مشاہدات : 592

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مجھ سے قاہرہ میں مقیم میرے ایک رشتہ دار نے 2500 مصری گنی قرض طلب کیا تو میں نے اسے دو ہزار ڈالر بھیج دئیے جن سے اسے 2490 مصری گنیاں مل گئیں، اب وہ قرض مجھے واپس لوٹانا چاہتا ہے، یاد رہے ہم نے آپس میں یہ طے نہیں کیا تھا کہ وہ کب اور کس کرنسی میں قرض واپس کرے گا۔ سوال یہ ہے میں اس سے 2490 مصری گنیاں لے لوں جو اب 1800 امریکی ڈالر کے مساوی ہیں (یہ ڈالر ان سے کم ہیں جو میں نے دئیے تھے) یا میں اس سے دو ہزار ڈالر ہی لوں اور یہ ڈالر خریدنے کے لیے اسے 2800 مصری گنیاں ادا کرنا ہوں گی جو کہ تین سو کے قریب اس رقم سے زیادہ ہوں گی جو اسے اس وقت حاصل ہوتی تھی؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

واجب تو یہی ہے کہ وہ آپ کو ڈالر ہی ادا کرے کیونکہ آپ کی طرف سے اسے جو قرض ملا تھا وہ ڈالروں ہی کی صورت میں تھا، لیکن اگر آپ آپس میں اس بات پر مصالحت کر لیں کہ وہ مصری گنیوں میں ادا کر دے تو پھر بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم "بقیع یا نقیع میں درہموں کے ساتھ اونٹ بیچتے اور دیناروں میں ان کی قیمت وصول کرتے تھے اور دیناروں میں بیچ کر درہموں میں قیمت وصول کرتے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(لا باس ان تاخذها بسعر يومها ما لم تفترقا و بينكما شئيء) (سنن ابي داود‘ البيوع‘ باب في اقتضاء الذهب من الورق‘ ح: 3354 وسنن النسائي‘ ح: 4586)

"اس میں کوئی حرج نہیں جب کہ آپ بیع کے دن کے نرخ کے حساب سے لیں جب کہ بائع اور مشتری کی علیحدگی کے وقت دونوں میں کوئی بات طے ہونے والی باقی نہ رہ گئی ہو۔"

یہ کرنسی کی دوسری کرنسی کے ساتھ بی ہے، یعنی یہ سونے کی چاندی کے ساتھ بیع کے مشابہہ ہے۔ اگر آپ اور وہ اس بات پر متفق ہو جائیں کہ وہ ان ڈالروں کے عوض مصری گنیاں ادا کرے گا بشرطیکہ آپ اس سے زیادہ گنیاں نہ لیں جو اس وقت آپ کے ادا کئے ہوئے ڈالروں کے مساوی تھیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ مثلا اگر دو ہزار ڈالر اب 2800 گنیوں کے مساوی ہیں تو آپ کے لیے تین ہزار گنیاں لینا جائز نہیں ہے، ہاں آپ 2800 گنیاں یا دو ہزار ڈالر لے سکتے ہیں یعنی آپ آج کے نرخ کے مطابق یا اس سے کم لیں، زیادہ نہ لیں کیونکہ زیادہ لینے کی صورت میں آپ اس مال پر نفع لیں گے جو آپ کی کفالت میں نہیں ہے اور نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کے نفع سے منع فرمایا ہے جو کفالت میں نہ ہو اور کم لینے کی صورت میں آپ اپنے بعض حق کو لے رہے ہیں اور بعض کو معاف کر رہے ہیں اور اس میں کوئی حرج نہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج2 ص537

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ