سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

بینکوں کے ملازمین کی تنخواہیں

  • 9401
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-16
  • مشاہدات : 751

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا بینکوں کے ملازمین خصوصا عربی بینک کے ملازمین کی تنخواہیں حلال ہیں یا حرام؟ میں نے سنا ہے کہ یہ حرام ہیں کیونکہ بینک اپنے بعض معاملات میں سودی لین دین کرتے ہیں، میں چونکہ ایک بینک میں کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں اس لیے امید ہے رہنمائی فرمائیں گے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سودی بینکوں کی ملازمت جائز نہیں ہے کیونکہ یہ گناہ اور ظلم کی باتوں میں اعانت ہے اور ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَتَعاوَنوا عَلَى البِرِّ‌ وَالتَّقوىٰ ۖ وَلا تَعاوَنوا عَلَى الإِثمِ وَالعُدو‌ٰنِ...٢﴾... سورة المائدة

"اور نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں میں تم سیک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو۔"

اور صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، لکھنے والے اور دونوں گواہی دینے والوں پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا:

(هم سواء) (صحيح مسلم‘ المساقاة‘ باب لعن آكل الربا ومؤكله‘ ح: 1598)

"یہ سب (گناہ میں) برابر ہیں۔"

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج2 ص523

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ