سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

کیا قیامت کے دن لوگوں کو ان کی ماؤں کے نام سے پکارا جائے گا

  • 9386
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-15
  • مشاہدات : 815

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

لوگ یہ کہتے ہیں کہ حدیث میں آتا ہے کہ کل کو قیامت کے دن لوگ اپنی ماؤں کے نام سے پکارے جائیں گے۔کیا یہ بات درست ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس قول کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔یہ ایک باطل اور بلا دلیل بات ہے۔صحیح بات یہی ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کے اپنے اور ان کے باپوں کے نام سے پکارا جائے گا۔(باب ما يدعى الناس بآبائهم)

اور پھر اس باب کے تحت سیدنا ابن عمر کی یہ حدیث لائے ہیں۔

"الغادر يرفع له لواء يوم القيامة، يقال له: هذه غدرة فلان بن فلان".

امام بخاری نے فلاں بن فلاں کے الفاظ سے استدلال کیا ہے کہ باپ کے نام سے پکارا جائے گا ورنہ یہ فلان بن فلانۃ ہوتا۔

سیدنا ابو درداء فرماتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا:

"إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم وأسماء آبائكم فأحسنوا أسماءكم"(ابو داود:)

تمہیں قیامت کے دن تمہارے اور تمہارے باپوں کے ناموں سے پکارا جائے گا،لہذا تم اپنے نام اچھے اچھے رکھا کرو۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ