سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

ڈالروں کی قسطوں پر خریداری

  • 9359
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-11
  • مشاہدات : 534

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں ایک شخص سے دس ہزار امریکی ڈالر، چالیس ہزار سعودی ریال میں اس شر پر خریدنا چاہتا ہوں کہ ہر ماہ ایک ہزار ریال کی قسط ادا کر دوں گا اور پھر ان ڈالروں کو بازار میں سینتین ہزار پانچ سو ریال میں فروخت کر دوں گا، تو اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے، جب کہ مجھے اس رقم کی ضرورت ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ یہ حرام ہے کیونکہ رقوم کا فرق کے ساتھ تبادلہ حرام ہے، نیز یہ تبادلہ ایک ہی مجلس میں باہمی قبضہ کی صورت میں ہونا چاہیے۔ تو اس سوال میں بیان کی گئی صورت میں عوض ثانی یعنی ڈالروں کی قیمت کا قبضہ موجود نہیں ہے، لہذا یہ معاملہ فاسد اور باطل ہے۔

اور اب جب یہ معاملہ ہو چکا ہو تو ڈالر لینے والے کو چاہیے کہ وہ ڈالرہی واپس کرے اور پہلے طے ہونے والے معاہدہ کو ختم کر دے کیونکہ یہ فاسد ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

(ما كان من شرط ليس في كتاب الله فهو باطل وان كان مائة شرط‘ قضاء الله احق وشرط الله اوثق) (صحيح البخاري‘ البيوع‘ باب اذا اشترط في البيع شروطا لا تحل‘ ح: 2168 وصحيح مسلم‘ العتق‘ باب بيان ان والولاء لمن اعتق‘ ح: 1504)

"ہر وہ شرط جو کتاب اللہ میں نہ ہو تو باطل ہے خواہ وہ سو شرط ہو۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ زیادہ صحیح اور اللہ تعالیٰ کی شرط زیادہ پختہ ہے۔"

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ