سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

جائز معاملہ

  • 9286
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-07
  • مشاہدات : 590

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے پاس کچھ قدیم زیورات تھے میں انہیں بازار میں بیچنے کے لیے ایک تاجر کے پاس لے گیا، اس نے مجھ سے کچھ لیے یا دئیے بغیر ان کے بجائے مجھے دوسرے زیورات دے دئیے۔ میں نے کہا کہ یہ تو جائز نہیں، تو اس نے کہا کہ اس نے مجھ سے جو زیورات لیے اور جو مجھے دئیے ہیں، ان کا وزن برابر ہے تو میں نے اسے سچا مان لیا، امید ہے اس معاملہ میں آپ مجھے فتویٰ عطا فرمائیں گے، لیکن اب میرے لیے اسے سونا واپس کرنا ممکن نہیں ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر دونوں زیورات وزن میں برابر تھے اور ان کا لین دین ایک ہی مجلس میں ہوا تو پھر اس معاملہ میں کوئی حرج نہیں خواہ ایک دوسرے سے عمدہ ہی کیوں نہ ہوں کہ احادیث صحیحہ کے عموم سے اس کا جواز معلوم ہوتا ہے۔۔۔ اور اگر اس نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا کہ یہ ہم وزن ہیں تو پھر اس کا گناہ اسے ہو گا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ