سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(24) کیا دم کرنا توکل کے منافی عمل ہے

  • 916
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-02
  • مشاہدات : 1073

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا دم کرنا توکل کے منافی عمل ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا دم کرنا توکل کے منافی عمل ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

توکل کے معنی یہ ہیں کہ جلب منفعت اوردفع مضرت کے لیے اللہ تعالیٰ کی ذات پر سچا اعتماد کرنا ان اسباب ووسائل کا سہارا پکڑتے ہوئے جن کے اختیار کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ توکل یہ نہیں کہ اسباب اختیار کیے بغیر اللہ تعالیٰ پر بھروسا کیا جائے۔ اسباب کے بغیر اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرنا، اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی حکمت پر طعن کرنا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے  مسَبَّبَات کو اسباب کے ساتھ مربوط قرار دیا ہے۔ یہاں پر سوال یہ پیداہوتا ہے کہ لوگوں میں اللہ تعالیٰ کی ذات پاک پر سب سے زیادہ توکل کرنے والا کون ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک پر سب سے زیادہ توکل کرنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا نقصان سے بچنے کے لیے آپ اسباب استعمال کرتے تھے یا نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں آپ اسباب استعمال فرمایا کرتے تھے۔ جب جنگ کے لیے تشریف لے جاتے تو دشمن کے تیروں سے بچنے کے لیے زرہیں زیب تن فرمایا کرتے تھے۔ غزوئہ احد میں آپ نے دو زرہیں زیب تن فرمائیں تاکہ پیش آنے والے خطرات سے بچنے کی تیاری کی جا سکے، تو معلوم ہوا کہ اسباب اختیار کرنا توکل کے منافی نہیں ہے، بشرطیکہ انسان اعتقاد یہ رکھے کہ یہ محض اسباب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر ان میں کوئی تاثیر نہیں، لہٰذا انسان کا پڑھ کر اپنے آپ کو یا اپنے بیمار بھائیوں کو دم کرنا توکل کے منافی نہیں ۔ حدیث سے ثابت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم معوذات پڑھ کر اپنے آپ کو دم کر لیا کرتے تھے اور یہ بھی ثابت ہے کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  بیمار ہوتے تو آپ انہیں بھی پڑھ کر دم فرما دیا کرتے تھے۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ ارکان اسلام

عقائد کے مسائل صفحہ 67

محدث فتویٰ


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ