سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(167) جادو کاجادو سے توڑ

  • 8426
  • تاریخ اشاعت : 2013-12-15
  • مشاہدات : 1482

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے ایک دوست کی بیوی پر جادو ہوگیا اور کسی بھی دوا سے اسے فائدہ نہ ہوا تو ہمیں ایک آدمی نے ایک ایسے شخص کا پتہ بتایا جوجادو کا علاج جادوسے کرتا ہے۔ تو کیا اس شخص کو گناہ ہوگا۔جو دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے توجادو سے کام لیتاہے۔ مگر اس سے وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا؟ اور کیا اپنی بیوی کے علاج کےلئے اس جادو گر  کے پاس جانے کی وجہ سے میرے دوست کوگناہ ہوگا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سب سے  پہلے میں یہ بیان کردینا ضروری سمجھتا ہوں۔ کہ جادواکبرمحرمات میں سے ہے۔ بلکہ اگر جادو گر اپنے جادو کے سلسلہ میں شیطانی احوال سے مدد لیتاہو۔ یا جادو اسے شرک تک پہنچاتا ہو تو پھر یہ کفر بھی ہے۔جادو کا سیکھنا بھی کفر ہے۔لہذا اس سے دور رہنا اور اس سے بچنا فرض ہے۔ تاکہ انسان کفر میں مبتلا ہوکر ملت اسلامیہ ہی سے خارج نہ ہوجائے۔ مسحور (جس پر جادو کیا گیا ہو) سے سحر دور کرنے کے دو طریقے ہیں۔(1) مباح دعاؤں اور اور قرآنی آیات سے سے دور کیاجائے یہ جائز ہے۔اور اس میں کوئی حرج نہیں اور اس سلسلے میں سب س بہتر ہے کہ مسحور کو (قل اعوذ برب الفلق) اور (قل اعوذ برب الناس) پڑھ کردم کیاجائے۔ دوسراطریقہ یہ ہےکہ جادو کاجادو سے علاج کیا جائے۔ اس مسئلہ میں سلف وخلف میں اختلاف رہا ہے۔بعض علماء نے اس کی اجازت دی ہے کیونکہ اس سے مسحور سے شر کاازالہ ہوجاتا ہے  او بعض نے جادوسے علاج کی اجازت نہیں دی۔ نبی کریم ﷺ سے نشرہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺنے  فرمایا:یہ شیطان کا عمل ہے اور عمل شیطان جادو ہی ہوتا ہے۔''مباح دعاؤں کے ساتھ علاج میں کوئی حرج نہیں۔جو شخص جادو میں مبتلا ہوجائے۔ اسے صبر کرنا چاہیے۔ اور قرآن مجید اور مباح دعاؤں کو کثرت  سے پڑھنا چاہیے۔تاکہ اللہ تعالیٰ ٰ اسے شفا عطا فرمادے۔

جادو کی تصدیق کی دوقسمیں ہیں:

1۔یہ ماننا کہ اس کی تاثیر ہے اس میں کوئی حرج نہیں کہ یہ ایک امرواقع ہے۔

2۔ یہ کہ اس کا اقرارکرے اور اسی پر اظہار رضا مندی کرے یہ حرام اور ناجائز ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ