سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(234) بریلویوں کے عقائد

  • 8205
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-14
  • مشاہدات : 1572

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 پاکستان میں ایک خاص ’’بریلوی‘‘ یا ’’نورانی‘‘ جماعت کہلاتی ہے۔ یہ نام ان کے موجودہ لیڈر کی نسبت ہے۔ میں آپ سے ان کے متعلق اور ان کے عقیدہ کے متعلق اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کے متعلق شرعی حکم معلوم کرنا چاہتا ہوں تاکہ اس سے بہت سے لوگوں کو اطمینان حاصل ہوجائے جو ان کی حقیقت سے واقف نہیں۔ میں ان کے بعض مشہور عقائد عرض کرتا ہوں:

(۱)  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  زندہ ہیں۔

(۲)  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  حاضر ناظر ہیں۔ خصوصاً نماز جمعہ کے فوراً بعد جس مجلس میں آپ کا ذکر ہو آپ حاضر ہوتے ہیں۔

(۳)  یہ عقیدہ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی شفاعت پہلے ہی قبول ہوچکی ہے اور آپ ہمارا سب کا جنت میں داخلہ کروادیں گے۔

(۴)  یہ لوگ اولیاء کرام اور قبروں میں مدفون افراد سے کچھ اس طرح کی عقیدت رکھتے ہیں کہ ان کے پاس نماز پڑھتے ہیں اور ان سے حاجت روائی کرتے ہیں۔

(۵)  قبروں پر گنبد بناتے ہیں اور روشنی کرتے ہیں۔

(۶)  یا رسول اللہ! اور یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کہتے ہیں۔

(۷)  نماز میں رفع الیدین کرنے اور آمین بلند آواز سے کہنے والے سے ناراض ہوتے ہیں اور اسے وہابی قرار دیتے ہیں۔

(۸)  نماز کے وقت مسواک کرنے پر شدید تعجب کا اظہار کرتے ہیں۔

(۹)  وضو اور اذان کے دوران اور نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی سن کر انگلیاں (انگوٹھے) چومتے ہیں۔

(۱۰)  نماز کے بعد ہمیشہ ان کا امام یہ آیت پڑھتا ہے۔

﴿اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ﴾ (الاحزاب۳۳؍۵۶)

اس کے بعد تمام نمازی اجتماعی طور پر بلند آواز سے درود شریف پڑھتے ہیں۔

(۱۱)  نماز جمعہ کے بعد دائرہ کی صورت میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور بلند آواز سے شعر پڑھتے ہیں۔

(۱۲)  رمضان کے مہینہ میں تراویح میں جب قرآن مجید ختم ہوتا ہے تو بہت سا کھانا پکا کر مسجد کے صحن میں تقسیم کرتے ہیں اور مٹھائی بانٹتے ہیں۔

(۱۳)  مسجدیں بنا کر انہیں بڑے اہتمام سے نقش ونگار سے مزین کرتے ہیں اور محراب پر یا محمد لکھتے ہیں۔

(۱۴)  خود کو صحیح اہل سنت اور صحیح عقیدہ کے حامل سمجھتے ہیں اور دوسروں کو غلطی پر سمجھتے ہیں۔

(۵)  ان کے پیچھے نماز پڑھنے کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟

واضح رہے کہ میں کراچی میں طب (ڈاکٹری) کی تعلیم حاصل کررہا ہوں اور میری رہائش ایک مسجد کے قریب ہے جس پر ایک بریلوی جماعت کا کنٹرول ہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جس شخص کے یہی حالات ہوں اس کے پیچھے نماز پڑھنا ناجائز ہے اور اگر کوئی نمازی اسی حالت سے واقف ہونے کے باوجود اس کے پیچھے نماز پڑھے تو اس کی نماز صحیح نہیں۔ کیونکہ سوال میں مذکورہ امور میں سے اکثر کفریہ اور بدعیہ ہیں، جو اس توحید کے خلاف ہیں جسے دے کر اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اور جو اس نے اپنی کتابوں میں بیان فرمائی۔ مذکورہ عقائدواعمال قرآن مجید سے صاف طور پر ٹکراتے ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿اِِنَّکَ مَیِّتٌ وَاِِنَّہُمْ مَیِّتُوْنَ﴾ (الزمر۳۹؍۳۰)

’’(اے نبی!) آپ بھی فوت ہونے والے ہیں اور یہ لوگ بھی مرنے والے ہیں۔‘‘

اور فرمایا:

﴿وَاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلَّہِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا﴾ (الجن۷۲؍۱۸)

’’بلاشبہ مسجدیں اللہ کی ہیں، پس اللہ کے ساتھ کسی کو مت پکارو۔‘‘

یہ لوگ جو بدعتیں کرتے ہیں، انہیں ان سے احسن انداز سے منع کرنا چاہئے۔ اگر وہ لوگ مان جائیں تو الحمد للہ،ورنہ انہیں چھوڑ کر اہل سنت کی مسجدوں میں نماز پڑھنی جائے۔ جناب خلیل الرحمن ابراہیم علیہ السلام کا یہ فرمان ایک اچھا اسوہ پیش کرتاہے:

﴿وَ اَعْتَزِلُکُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ عَسٰٓی اَلَّآ اَکُوْنَ بِدُعَآئِ رَبِّیْ شَقِیًّا﴾ (مریم۱۹؍۴۸)

’’میں تم سے الگ ہوجاؤں گا اور جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو (ان سے بھی دور رہوں گا) اور اپنے رب کو پکارو ں گا۔ امید ہے کہ اپنے رب کو پکار کر میں بدنصیب نہیں رہوں گا۔‘‘

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ

اللجنة الدائمة۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ ابن بازرحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 255

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ