سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(132) وطنیت اور سیاست کا حکم

  • 8109
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-12
  • مشاہدات : 1069

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا کسی انسان کیلئے یا مومن کیلئے یہ کہنا حرام ہے کہ (أنا وطنی) ’’میں وطن پرست ہوں۔‘‘( ’’وطن پرست،، سے لغوی معنی ’’وطن کا پجاری،، مراد نہیں، بلکہ وہ مفہوم مراد ہے جو عرف عام میں سمجھا جاتا ہے۔ یعنی اپنے ملک کو زیادہ اہمیت دینے والا، اپنے وطن اور اہل وطن کے فائدہ کے لئے بڑھ چڑھ کر کام کرنے والا۔)کیا کسی انسان کیلئے داخلی یاخارجی سیاست پر بات کرنا حرا م ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مسلمان کیلئے فخر کی سب سے بڑی بات اور اس کا بلند ترین مقام یہ ہے کہ وہ اسلام کی طرف منسوب ہو اور دین کی تائید ونصرت اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے فی سبیل اللہ جہاد کرے۔ مسلمان کو کہنا چاہئے: ’’میں مسلم ہوں‘‘ اس سے اس کی شان اور درجہ زیادہ بلند ہوتا ہے۔ دین اسلام اور اخوت ا سلامی ہی سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں میں اتحاد پیدا فرمائے گا۔ وطنیت کے نعرے اور تخریب اور مسلمانوں کے باہمی افتراق کا ذریعہ ہیں، جب کہ اس سے مقصود دوسرے ممالک کے مسلمانوں پر اپنی برتری کا اظہار ہو۔ اگر محض تعارف کیلئے وطن کا ذکر کیا جائے، مقصد یہ ہو کہ میں فلاں ملک کا باشندہ ہوں دوسرے کسی ملک کا نہیں، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن باز مدظلہ نے قومیت کے متعلق ایک رسالہ بھی تصنیف کیا ہے۔

امت اور قوم کی داخلی اور خارجی سیاست پر بات کرنا حرام نہیں بشرطیکہ اس سے اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ ہو اور ایسے فتنے پیدا نہ ہوں جن کانتیجہ افتراق‘ بزدلی‘ ناکامی اور تنزل ہو۔

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِهٖ وَصَحْبِهٖ وَسَلَّمَ

 اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز فتویٰ (۸۹۷۳)

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ ابن بازرحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 145

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ