سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(68) قبر والی مسجد میں نماز

  • 7398
  • تاریخ اشاعت : 2013-10-29
  • مشاہدات : 1428

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا ایسی مساجد میں نماز ہو سکتی ہے جہاں قبریں ہوں؟جیسے اب پاکستان میں ہر تیسری بریلوی مسجد میں قبریں موجود ہیں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سائلین سے گزارش ہے کہ ایک ای میل میں صرف ایک ہی سوال بھیجا کریں، اور دوسرے سوال کے لئے دوسری ای میل کریں، اسی لئے ہم یہاں آپ کے صرف ایک ہی سوال کا جواب دے رہے ہیں۔

ایسی مساجد میں نماز نہیں پڑھنی چاہئے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر مساجد بنانے والوں کو ملعون قرار دیا ہے اور قبروں پر مساجد بنانے سے قبروں پر اور قبروں کی طرف نماز پڑھنے سے روک دیا ہے ۔ جندب بن عبداللہ کہتے ہیں میں نے اللہ کے ر سول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے ان سے سنا۔ انہوں نے کچھ باتیں ذکر کیں:

'' کہ جو تم سے پہلے تھے ( یہود و نصاری ٰ ) وہ اپنے ابنیاء اور نیک لوگوں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیتے تھے خبر دار تم قبروں کو مسجد نہ بنانا میں تم کو اس سے منع کرتا ہوں ''۔ ( رواہ مسلم (۵۳۲) ابو داؤد )

ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا االلہ تعالیٰ یہودیوں اور عیسائیوں پر لعنت کرے انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا ۔

(بخاری (۳۹۰٠) مسلم (۵۲۹٩)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاوی مکیہ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ