سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(681) غیر مسلم کا داخلہ اور تقریر مسجد میں

  • 7317
  • تاریخ اشاعت : 2013-10-27
  • مشاہدات : 764

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

غیر مسلم کا داخلہ اور تقریر مسجد میں


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

غیر مسلم کا داخلہ اور تقریر مسجد میں

پچھلے دنوں دہلی اور لا ہو ر کی جا مع مسجد وں میں مسلموں کے ساتھ غیر مسلموں نے بھی تقریریں کیں وہ تقریریں کس مضمون کی تھیں اور کس کی نہ تھیں اس سے ہمیں مطلب نہیں ان کے ایسا کر نے پر مذہبی دنیا میں سوال ہیدا ہوا کہ آیا ازروئے مذہب اسلام ہو نا ایسا ہونا جائز ہے کہ کو ئی غیر مسلم مسجد میں آکر منبر یا مکبر پر تقریر کر ے چو نکہ یہ ایک مذہبی سوال تھا اس لئے مذہبی جرائدنے اس کے جوا بات پر تو جہ کی چنا نچہ رسالہ معارف میں ایک مضمون مو لوی ابو الکلام صاحب آزاد کا لکھا ہو ا ہے نکلا جس میں مو صوف نے بڑی طوالت سے بحث کر کے ثا بت کیا کہ ایسا ہو نا جا ئز ہے مضمون مذکور میں دلائل حد یثیہ اور تا ر یخیہ سے استدالال کیا ہے جن میں سے بعض دلائل قریب الما خذا اور بعض بعید بھی ہیں مگر مجموعی طور پر دلا ئل کا فی ہیں میرے نزدیک اس دعوے پر ایک ہی دلیل کا فی ہے جو نص صریح اس پر ہو سکتی ہے جس کی تفصیل یہ ہے صلح حد یبیہ کے مو قع پر مسلمانوں اور کفار مکہ میں معاہدہ ہو ا اس معاہدہ میں یہ بھی داخل ہوا کہ بنی خزا عہ مسلمانوں کے حلیف میں اور بنی بکر کفا ر عرب کے حلیف ہوں گے اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ دونوں حلیف آپس میں لڑ پڑیں تو مسلمان اور کفار مکہ اپنے اپنے حلیف کی دوسرے کے بر خلاف مدد نہ کر یں گے تو عہد شکنی ثا بت ہو جا ئے گی چند دنوں کے بعد بنی خزا حلیف مسلماناں اور بنی بکر حلیف مشرکین میں جنگ ہو گئی تو مشرکوں نے بنی بکر کی حمایت کی اس کی اطلاع بنی خزاعہ نے مدینہ شریف پہنچ کر دربار رسالت میں پہنچا دی تو آنحضرت ﷺ نے تیاری کا ارادا کیا اتنے میں مشرکین مکہ کو خبر ہوئی تو بقابلہ مسلماناں اپنی کمزوری محسوس کر کے ان کی طرف سے ابو سفیا ن مدینہ شریف آیا تا کہ گذاشتہ فعل پر مذامت کا اظہار کر کے آئندہ کے لئے تجدید عہد کرے اس غرض کے لئے حضرت ابو بکر کے پا س بغرض سفارش کرانے گیا۔ انہوں نے انکار کیا حضرت عمر کے پاس گیا وہ بھی منکر رہے حضرت عثمان کے پاس گیا وہ بھی نہ ما نے آخر حضرت علی اور حضرت فاطمہ کے پاس گیا بہت منت سماجت خوشامد کی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں سفا رش تو نہیں کر سکتا مگر ایک تجو یز بتاتا ہوں کہ تم کھڑے ہو کر پکار دو کہ میں نے فریقن میں معا ملہ کو سلجھا دیا اور امن اماان کرا دیا ہے اس کے آگے با لا تفاق مئور خین کے الفاظ یہ ہیں۔

 فقام ابو سفيان في المسجد فتاويٰ الا اني قداجرت بين الناس (ابن خلدون بقيه الجز لثاني ص ٤٣ تاريخ طبري ج ٣ ص ١١٣ رتاريخ كال ابن اثير ج٢ ص ١٦ تاريخ ابن هشام برحاشييه زادالمعاد ج٤ ص ٢٣٩ تاريخ خميس ج٤ ص ٨٧ وغيره

اس فقرے کا تر جمہ مو لا نا شبلی مرحوم کی سیرۃ نبوی میں یوں کیا گیا ہے ’’بالا آخر ابو سفیان نے حضرت علی کے ایما سے مسجد نبوی میں جا کر اعلان کر دیا کہ میں نے معاہدہ کی تجدید کر دی۔‘‘ ( ص ٣٧٤)

یہ واقعہ ایسا ہے کہ کل مو رخین نے اسے نقل کیا ہے اس سے یہ نتیجہ صاف بر آمد ہو تا ہے غیر مسلم مسجد میں اپنے مطلب کی با ت بھی کہہ سکتا ہےگو وہ مسلمانوں بلکہ ان کے امام کے منشاء کے بھی خلا ف ہو کجا یہ مسلمانوں کے منشاء کے خلا ف نہ ہو اسلام ایسا تنگ مذہب نہیں ہے کہ اپنی عبادت گاہ میں غیر مسلموں کو آنے یا آنے پر بو لنے کی اجازت نہ دے بلکہ اسلام تو ایسا وسیع الحو صلہ مذہب ہے کہ غیر مسلموں کو اپنی مساجد میں اپنے طریق پر بھی نماز پڑہنے کی اجازت دیتا ہے چنا نچہ نجران کے عیسا ئیوں کو مسجد نبوی میں اپنی عبادت ادا کرنے کی اجازت خود حضور ﷺ نے بخشی اور انہوں نے اپنے طریق پر نماز پڑھی معا لم التنز یل وغیرہ حا لا نکہ یہ لو گ مذہبی منا ظرہ کر نے آئے تھے ثابت ہو ا کہ غیر مسلم کا مسجد میں منبر پر یا مکبر پر نیچے یا اوپر تقریر کرنا شر یعت اسلام میں منع نہیں ہے اللہ اعلم۔

اظہار افسوس

اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کا یہ عمل کہ غیروں کو بھی مسجد نبوی ﷺمیں نماز کی اجازت دیں اور وہ اپنے طریق پر خلاف طریق اسلام نماز پڑھیں مگر مسلمانوں کی یہ کفیت ہے کہ معمولی سے فردعی اختلاف پر ایک فریق دوسرے کو مسجد میں نماز پڑہنے سے روکیں اور فتاوے شائع کریں کہ فلاں فرقے کا ہماری مسجد میں نماپڑہنا ممنوع ہے جس کی زندہ مثال آج کل لاہور مسجد بیگم شا ہی میں ملتی ہے آہ کیا سچ ہے

شنیدم کہ مردان راہ خدا           دل دشمناں ہم نہ کر دند تنگ

تراکے میسر شودایں مقام           کہ بادو ستانت خلاف و ست جنگ

  ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ امرتسری

 

جلد 2 ص 750

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ