سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(483) کیا نبی کریمﷺ پر عمل فرض تھا

  • 7036
  • تاریخ اشاعت : 2013-10-08
  • مشاہدات : 434

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک صاحب نے دوران تقریر یہ الفاظ کہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل فرض نہیں تھا ، آپ پر عمل اس وقت فرض ہوا جب کہ سورة العصر نازل ہوئی، کیا یہ بات صحیح ہے ؟ براہ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمادیں؟ نیز یہ بھی بتا دیں کہ اگر یہ بات صحیح نہیں ہے تو ان صاحب کے ساتھ معاملات کی کیا گنجائش ہے کیونکہ ان صاحب کی توجہ جب اس طرف کرائی گئی تو وہ اپنی بات پر قائم ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جی ہاں ،شریعت پر عمل کرنا نبی کریم پر بھی فرض تھا،بلکہ ہر حکم خدا کے پہلے مخاطب آپ ہی ہوا کرتے تھے، آپ پہلے خود عمل کرتے اس کے بعد صحابہ کرام کو بتاتے تھے، بلکہ آپ پر تو بعض وہ چیزیں بھی فرض تھیں جو امت کے حق میں نفل ہیں، مثلا تہجد پڑھنا امت کے لئے نفل ہے ،لیکن آپ پر فرض تھی۔

ایسا کہنے والا شخص یا تو جاہل ہے ،جس کی اصلاح کی ضرورت ہے ،یا پھر مبتدع ہے ،جس سے دور رہنا ہی بہتر ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ