سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(598) کیا زکواۃ بعد ختم سال فورا ادا کردی جائے یا

  • 6396
  • تاریخ اشاعت : 2013-08-11
  • مشاہدات : 730

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا زکواۃ بعد ختم سال فورا ادا کردی جائے یا بتدریج موقعہ بموقعہ مستحقین کے طنے پر دے سکتے ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دونوں طرح جائز ہے۔ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ ۚ ﴿٢٢٠سورة البقرة

شرفیہ۔

زکواۃ کامال بعدسال گزرنے کے مستحقین فقراء ومساکین وغیرہ کا ہے اور مالک کے پاس وہ بطورامانت ہے۔  اور فرمان باری ہے۔ إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا ﴿٥٨ سورة النساء پھر جب فقراء مساکین مستحقین بھی ہوں۔ اور وہ تاخیر نہیں چاہتے۔ تو پھر تاخیر جائز نہیں ہے۔ ورنہ جائز ہے۔ پھر خصوصا قرب وجوار کوچھوڑ کربہت دیر یعنی سال بھر تک منتظر رہنا جائز نہیں ہے۔  (ابوسعید شرف الدین دہلوی)

 

  ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ  ثنائیہ امرتسری

جلد 01 ص 749

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ