سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(132) نماز باجماعت اداء کرنے کےلیے نمازی کب کھڑے ہوں؟

  • 632
  • تاریخ اشاعت : 2012-05-12
  • مشاہدات : 1234

سوال


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض لوگ فرض نما ز کے اقا مت کےوقت حیٰ الصلاح  پر کھڑ ہو ں کر صفیں درست کر تے ہیں یہ صحیح ہے یا غلط ؟ اس با رے صحیح موقف کیا ہے؟ ازراہِ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں۔ جزاكم الله خيرا

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس بارے اہل علم کا اختلاف ہے کہ جماعت کی نماز کے لیے نمازیوں کو کب کھڑا ہونا چاہیے؟ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ’حی علی الصلوة ‘ اور حنابلہ کے نزدیک ’قد قامت الصلوة‘ کے الفاظ پر کھڑا ہونا چاہیے۔ امام مالک رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ اس کی کوئی حد مقرر نہٰیں ہے اور کسی بھی وقت نمازی کھڑے ہو سکتے ہیں اور یہی قول راجح ہے کیونکہ جماعت کی نماز کے لیے کھڑے ہونے کے بارے متعین کلمات یا وقت کے حوالہ سے اس بارے کوئی صحیح روایت مروی نہیں ہے۔ ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ امام کو دیکھ کر مقتدیوں کو نماز کے لیے کھڑا ہونا چاہیے۔

روایت کے الفاظ ہیں :

"إذا أقيمت الصلاة فلا تقوموا حتى تروني"  متفق عليه

’’جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو جب تک مجھے نہ دیکھ لو کھڑے نہ ہو۔‘‘

وبالله التوفيق

فتویٰ کمیٹی

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ