سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(518) ہم لوگ کس حساب پر طاق راتوں میں عبادت کریں؟

  • 6316
  • تاریخ اشاعت : 2013-08-07
  • مشاہدات : 1047

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہم لوگوں کو انتیسویں کا چاند نظر نہیں آیا۔ اس سے شعبان کی تیس گنتی پوری کرکے روزہ رکھا۔ اور قرب وجوار سے مثلا دومیل سے لے کر چالیس میل تک کی خبریں چاند دیکھنے کی موصول ہویئں۔ آپ لوگ فرمایئں ہم لوگ کس حساب پر طاق راتوں میں عبادت کریں۔ اور کیا روز ہ بھی قضا رکھنا ہوگا۔ (عبداللہ وزیانگرم)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر قرب وجوار سے معتبر شہادتیں مل جایئں کہ چاند دیکھا گیا ہے تو آپ اسی حساب سے شمار رکھیں اور بعد میں ایک روزہ قضا کریں بہت دور کی شہادت آپ ک لئے حجت نہیں۔

تشریح

سوال۔ 1۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ روایت ہلال کے لئے شرع شریف میں کوئی مسافت م متعین نہیں ہے۔ ؟اگر ہے تو کتنے میل کی؟

2۔ کیا مدارس کے مسلمان دہلی کی روایت کا اعتبار کرسکتے ہیں۔ جب کہ دہلی ایک ہزار سے زیادہ فاصلہ پر واقع ہے۔ نیز دہلی اور مدارس کے غروب کے وقت میں نصف گھنٹہ کافرق ہے۔

3۔ کیا ریڈیو تار ٹیلی فون کی خبریں اور شہادتیں شریعت اسلامیہ میں قابل تسلیم ہیں۔

4۔ ریڈیو پر ایسا آدمی جو شہادت شرعی کے معیار پر صحیح اترتا ہوہندوستان کے کسی حصہ سے اعلان کرے کہ میں بچشم خود چاند دیکھا تو کیا تمام ہندوستان کو عید کرنی جائز ہے۔ ؟اسی پر ٹیلی فون اور تار کو قیاس فرمایئں۔ ؟

5۔ کیا بارہ بجے دن کی شرعی تحقیق ہوجائے۔ اور شرعی شہادت کے زریعہ ثابت ہوجائے کہ 29 کو چاند ہوا تو 12 بجے کے بعد روزہ توڑنا جائز ہے۔ بینوا توجروا (سید عزیز اللہ از مدراس)

الجواب۔ دوسرے شہر کی رویت ہلال کے اعتبار میں مسافت یعنی میلوں کی تعین کی کتاب وسنت میں کوئی صریح نص نہیں۔ اسی لئے علمائے کرام کے اجتہادی اقوال اور مذاہب اس امر میں مختلف ہیں اور سوائے قول اختلاف مطلع کے جس کی تحقیق آگے آتی ہے کوئی قول قابل وثوق نہیں۔ کریب کی روایت سے ابن عباس کے مجمل قول امرنا سے بعض نے لکل اھل بلدِ رویتھم کے باب کو حدیث سمجھ لیا ہے جو بالکل غلط ہے ۔ یہ تو اجتہادی قول ہے۔ اصل دلیل حدیث نبوی ﷺ "صومو الرويته وافطر والرايته" (صحیح بخاري) ہے یہ خطاب عام ہے۔ کوئی مسلم کہیں چاند دیکھے چاند ہوگیا۔ عید الفطر وغیرہ کے لئے دو شخص کی رویت لازمی ہے۔ اور روزہ رمضان رکھنے کےلئے ایک شخص کی شہادت بھی کافی ہے۔ جس کی تفصیل سنن وغیرہ میں یہ بھی ہے۔ کہ آخر رمضان میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں کچھ لوگ اونٹوں پر سوار دوردراز سے ایسے وقت میں آئے کہ عید کی نماز کا وقت نہیں رہا تھا۔ یعنی بعد دوپہر وہ لوگ حاضر ہوئے تھے۔ انھوں نے یہ شہادت دی کہ ہم لوگوں نے اپنے موضع یا شہر میں چاند دیکھا تھا۔ تو آپﷺ نے اسی وقت لوگوں کے روزے افطار کرادیئئے۔ اوردوسرے روز عید کی نماز پڑھائی۔ اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دوسرے شہر کے لوگوں کی رویت ہلال کی شہادت کا اعتبار ہے۔ بشر ط یہ کہ دوسرے شہر کا مطلع اس شہر سے مختلف نہ ہو۔ مختلف مطلع یہ کہ مثلا ایک شہر یا موضع میں دن ہے۔ تو دوسرے میں رات ہے۔ یا ایک جگہ ظہر کی نماز کا وقت ہے۔ تو دوسرے میں عصر یا مغرب کا اگر ایسا ہو تو پھر وہاں کی رویت دوسروں کے لئے کافی نہ ہوگی۔ تا وقت یہ کہ وہ یا اس کے متفق مطلع والے چاند نہ دیکھ لیں۔ اس پر دلیل یہ ہے کہ مثلا جس شہر یا موضع میں دوسرے شہر سےچند گھنٹے پہلے زوال ہوگا۔ ان کو حکم ہے کہ ظہر کی نماز ادا کریں۔ اور اس وقت دوسرے شہر والوں کوجن کا مطلع ان سے مختلف ہے۔ اور ابھی زوال میں کئی گھنٹے باقی ہیں۔ نماز ظہر پڑھنا منع ہوگا۔ اس لئے کہ ابھی یہاں زوال نہیں ہوا۔ اور پہلوں کو نماز ظہر پڑھنا فرض ہوگا۔ اس سے ثابت ہوا کہ مختلف المطالع کا حکم الگ الگ ہے۔ اگردوسرے شہر والے پڑھنا بھی چاہیں۔ تو اول تو ہر جگہ اس کا علم مشکل ہے۔ اگر کسی طرح معلوم کر کے پڑھ بھی لیں۔ تو پھر جب ان کے ہاں زوال ہو تو اگر وہ دوبارہ ظہر نہ پڑھیں۔

أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ﴿٧٨سورة الإسراء

اوراحادیث صحیحہ کے خلاف ہوگا۔ اور اگر دوبارہ پڑھیں۔ تو اس میں یہ اشکا ل ہے کہایک دن رات میں جو پانچ نمازیں فرض ہیں۔ کم وبیش نہیں۔ اس صورت میں پانچ سے زائد کیا ؟بے شمار ہوں گی۔ اس لئے کے چوبیس گھنٹے میں ہر وقت کہیں نہ کہیں ظہر عصروغیرہ کا وقت ہوتا ہے۔ تو ہر وقت نماز فرض ہوگی۔ تو اول تو ہروقت کا علم محال دوم پڑھنا بھی محال نیز اس صورت میں تکلیف بالمحال لازم آتی ہے۔ اور یہ سب امور باطل ہیں۔ لہذا یہ صورت بھی باطل ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ جن شہروں کے آپس میں مطالع مختلف ہوں۔ ان کی رویت ہلال دوسروں کےلیے معتبر ہوگی۔ بعض فقہاء کرام نے اختلاف مطالع کی تعین مسافت ایک مہینے کے راستے سے کی ہے۔ مگر یہ بھی اس کریب والی اوپر کی روایت سے استنباط کی ہے۔ سو اول تو روایۃ کریب سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ وہ چاند دیکھ کر فوراً وہاں سے چلے یا ٹھر کر نیز وہ کس تاریخ کو مدینہ منورہ پہنچے۔ کتنے دل چلتے رہے پھر ایک ماہ کے راستے میں اجمال ہے۔ کہ رفتار پیدل کی یا سواری کی اس میں بہت بڑا فرق ہے۔ پھر راستہ میدان کایا پہاڑی ٹیڑھا ترچھا یا دریائی ایر پھیر کا کبھی ان امور میں زمین آسمان کا فرق ہوجاتا ہے۔ تحقیق جدید سے معلوم ہوا ہے کہ مدینہ منورہ اور شام کے مطلع میں پندرہ بیس منٹ کا فرق ہے۔ اور یہ اختلاف رویت ہلال کے حکم میں معتبر نہیں جس کی تحقیق آگے آتی ہے۔ مسافت کم میں مدار شمس کے اختلاف مطالع کی نمازوں میں گھنٹوں کے اعتبار سے ان دیار میں بہت کمی بیشی ہے۔ متوسط اختلاف کا لہاظ کیاگیا۔ یعنی ظہر عصر یا مغرب کے وقت کا اختلاف جو عموما ً تین گھنٹے سے کم نہیں ہوتا۔ لہذا جہاں د و شہروں کے طلوع وغروب میں تین گھنٹے کا اختلاف ہو وہ مختلف مطالع میں شمار ہوں گے۔ اور جن کا اس سے کم ہو وہ اس سے خارج ہوں گے۔ جواب لکھا ہوا بوجہ علالت طبع رکھا ہوا تھا۔ کہ اخبار اہلحدیث مورخہ 29 شعبان 1361 ہجری میں مولانا کا جواب بھی نظر سے گزرا کہ مسافت متعینہ کی روایت میرے علم میں نہیں ہاں علم ہیت سے اتنا معلوم ہوتا ہے۔ کے غالباً تیس میل کے فاصلے پر اختلاف مطالع ہوجاتا ہے۔ امرتسر سے لاہو ر کا فاصلہ تیس میل کا ہے۔ اتنے فاصلے پر تین منٹ کا اختلاف ہے۔ اگر امرتسر میں چھ بجے سورج غروب ہوتا ہے۔ تو لاہور میں چھ بج کر 33 منٹ ہوتا ہے۔ اس لئے اختلاف مطالعہ کی وجہ سے رویت قبول نہیں کی جائیگی۔ ’’انتہا‘‘ میں کہتا ہوں کہ اوپر کی سنن کی حدیث سے ثابت ہے۔ کہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں جو دورودراز کے اونٹوں کے سوار آخر رمضان میں ہوئے تھے۔ اور انھوں نے کہا تھا کہ ہم نے کل اپنے شہر یا موضع میں چاند دیکھا تھا تو ان کے کہنے پر حضورﷺ نے بعد دوپہر روزہ افطار کر اکر دوسرے روز نماز عید کو پڑھنے کو کہا تھا۔ وہ غالباً تیس میل یا اس سے بھی زائد ہی سے آئے تھے اس سے ثابت ہوا کہ اس قدر اختلاف مطالع کا شرع میں اعتبار نہیں ونیز اختلاف مطالع مدار شمس کے اختلاف سے بھی ہوتا ہے۔ خواہ مسافت کم ہی ہو۔ او مطلقاً 33 میل مستلزم اختلاف مطالع نہیں۔ تا وقت مدار شمس کا فرق نہ ہو نیز مکہ معظمہ اور جدہ کے درمیان کا فاصلہ پچاس میل کا ہے۔ اور ایسا کبھی معلوم نہیں ہوا کہ مکہ والوں نے جدہ والوں کی روئت کا اعتبار نہ کیا ہو۔ بالعکس۔ نیز اگر 33 میل کے اختلاف کا اعتبار ہوتا۔ تو پھر اختلاف مطالع میں امت کا اختلاف ہی نہ ہوتا۔ اس لئے کہ یہ تو عموماً ہوا ہی کرتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ متواتر اور مشہور ہوجاتا اور اختلاف نہ رہتا۔ واز لیس فلیس

نیز جب 33 میل پر تین منٹ کا اختلاف مطلع ہے۔ تو گیارہ میل پر ایک منٹ کاہوگا۔ پھر اگر مطلقاً اختلاف مطلع کا اعتبار ہوگا۔ تو گیارہ پر بھی ہوگا تواول تو یہ اوپر کی سنن وغیرہ کی حدیث سے باطل ہے۔ کے اس سے زائد فاصلے کی رویت ہلال کا رسول اللہﷺ نے اعتبار کیا۔ دوم اس سے مکہ والوں کو عرفات کے پرلے سرے جو گیارہ میل پر ہو رویۃ ہلال کا بھی اعتبار نہ ہوگا۔ اور یہ بالکل غلط ہے۔ اس کا تو کوئی بھی قائل نہیں اس سے تو لازم آتا ہے کہ دہلی والے غاذی آباد 12 میل اور قطب میل وغیرہ کی رویت ہلال کا بھی اعتبار نہ کریں۔ یہ بھی بالکل غلط ہے کوئی اس کا بھی قائل نہیں۔ تو جب تک اختلاف مطالع کی حد شرع سے نہ ثابت ہو قابل قبول نہیں۔ کتاب وسنت سے صراحتاً ثابت ہو۔ یا استنباط اور اوپر جو میں نے لکھا ہے۔ وہ کتاب وسنت سے مستنبط ہے۔ کہ اگر بالکل اختلاف مطالع کو تسلیم نہ کیا جائے مگر شرع سے اس کی کوئی حد نہ مقرر کی جائے۔ تو ہر دو صورت میں تکلیف مالیطاق اور محال لازم آتاہے۔ جو باطل ہے جس سے شریعت محمدیہ پاک ہے۔ لہذا جو کچھ اوپر کتاب و سنت کی روشنی میں لکھا گیا ہے۔ وہی قابل قبول ہے۔ اور بس۔

جواب نمبر 2۔ کا جواب نمبر 1۔ میں آگیا کہ دہلی او ر مدراس کے طلوع وغروب میں چونکہ نصف گھنٹے کافرق ہے۔ جو تین گھنٹے سے کم ہے۔ لہذا ان کو ایک دوسرے کی رویت ہلال کا اعتبار نہ ہوگا۔

جواب نمبر 3۔ تار کی خبر کو عموماً علماء کرام و اساتذہ عظام تسلیم نہیں کرتے۔ اس لئے کہ تار کے کارکن اکثر بالکل کافر اور غیر مسلم ہوتے ہیں۔ اور کافر کی خبر دیانت میں مقبول نہیں (در مختار وٖغیرہ) نیز یہ یہ رویت ہلال محض خبر نہیں اس میں شہادت اور نصاب شہادت او ر مجلس قضا بھی ہے۔ اور یہ خبر غائب ہے۔ اس میں معرفت مخبر کی لازم ہے۔ اور یہ امور تار کی خبر میں مفقود لہذا ردود ہے تو جواب یہ ہے کہ اول تو فقہاء کا یہ کلیہ کہ ہر امر دینی میں ہر کافر کی خبر کسی حالت میں بھی مقبول نہیں۔ بچند وجود منقوض ہے۔ وجہ اول یہ کہ کافر فاسق کی خبر کے عدم اعتبار کو آیت ۔

إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا ﴿٦سورة الحجرات

سے استنباط کیا گیا ہے۔ حالانکہ فقہا ء نے لکھا ہے کہ اس سے کافر کی خبر مطلقاً تردید نہیں ہوتی۔ بلکہ تحقیق پر موقوف ہے۔ لہذا بعد تحقیق وثبوت مقبول ہوگی۔ تو گویا من وجہ یہ آیت بھی دلیل قبول کی ہے۔ دوم وجہ قول باری تعالیٰ جل مجدہ

 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ إِنْ أَنتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَأَصَابَتْكُم مُّصِيبَةُ الْمَوْتِ ۚ۔ ﴿١٠٦ سورة المائدة

 اس آیت سے کافر کی خبر شہادت بھالت سفر شرعا ثابت ہے۔ اس کی شہادت پر خبر پر میت کی وصیت وادادیوان اس کے اور ترکے کی تقسیم اس کی عورت کی عدت و نکاح ثانی۔ ونماز جنازہ غائب۔ اس کے بچو ں پر حکم یتیم کا ثبوت اس کی ضمانت کا اسقاط وغیرہ موقوف ہیں۔ اور یہ امور ینی ہیں۔ خصوصا نماز جنازہ غائب ووصیت تعمیر مسجد وغیرہ۔ وجہ سوم رسو ل اللہﷺ نے بوقت ہجرت مدینہ منورہ ایک کافر کو اپنی سواری کی اونٹینیاں دے کر کہا کہ فلاں وقت لا کر ہم کو مخفی راستہ سے مدینہ پہنچادو اس نے ایسا ہی کیا ہجرۃ امر دینی ہے۔ اس میں رسول اللہﷺ نے کافر کے قول وعمل کااعتبا ر کیا اور حضور ﷺ کا یہ امر دینی ہے۔ (صحیح بخاری)

وجہ چہارم واقعہ حدیبیہ میں رسو اللہﷺ نے ایک مشرک کافر کو جاسوس بنا کر کفار کا حال معلوم کرنے کو بھیجا اس نے آکر خبر دی۔ اس پر اعتبار کر کے رسول اللہﷺ نے مقابلے کرنے کے بارے میں مشورہ کیا (بخاری) اس سے بھی کافر کی خبر کااعتبار ثابت ہوا۔ کہ یہ سفر حضورﷺ کا عمرہ کےلئے تھا۔ پھر جنگ کے بارے میں مشورہ کیا مگر جنگ ملتوی کیاگیا بہرحال عمر ہ ہو یا جنگ کفار دونوں امر دینی ہیں۔ خلاصہ یہ کہ کافر کی خبر دہیانت میں مطلقاً مردود نہیں۔ بعد تحقیق وثبوت قرائن مصدقہ بعض امور میں بعض اوقات مقبول بھی ہے۔ مثلاً اگر کسی اعلیٰ افسر نے دہلی سے کانپور شب کو تار دت کر وہاں کے نائب کو بلایا کہ تم یہاں آجائو۔ اس کے فوراً جواب دیا کہ یہاں آج چاند ہوگیا ہے صبح مسلمانوں کی عید ہے۔ مجھے یہاں کا انتظام کرناہے۔ تو بتایئے اس کے صدق میں کسی کو شبہ ہوسکتاہے۔ ؟ہر گز نہیں ایسے ہی اگر کوئی نابینا یا ضعیف البصر کسی ایسے ہی مقام میں قید ہو جہاں کفار کے سو ا کوئی مسلم رویت ہلال کی خبر دینے والا نہ ہو تو وہ اگر کفار کی رویت ہلال پر روزہ رمضان وعید نہ کرے تو کیا کرے۔ ایسے ہی اگر اس کے مرنے کی خبر کفار دیں اگر اس کے مرنے کا اعتبار نہ کیا جائے تو اس کی زوجہ اور اس کے بچے کیا کریں۔ کیا زوجہ ساری عمر اس کے آنے کی منتظر رہے۔ ایسے ہی اس کے ترکے کی تقسیم اس کی زوجہ کی عدت ونماز جنازہ غائب کا کیا حکم ہوگا۔ ایسے امور میں عتبار کیا جائےگا۔ جب قرآن وحدیث سے بعض امور دینی میں کفار کی خبر کا اعتبار ہے۔ تار کی خبر بھی انہی خاص قسموں میں سے ہے۔ کہ بعد تحقیق مکرر سہ کر تار دینے اور نیز مختلف مقامات سے دریافت کرنے سے اگر یقین یا ظن غالب اس کے صدق کا ہو تو قبول ورنہ مردود لاکھوں روپے کے کاروبار مرنے وجینے کے حالات تار کی تار کی خبر پر تسلیم کئے جاتے ہیں۔ کوئی بھی ان میں تردد نہیں کرتا۔ اور کبھی ان میں یہ سنا گیا کہ فلاں مقام میں رویت ہلال کی خبر میں تار والوں نے اہل اسلام کو جھوٹی خبر دے کر روزہ رکھایا ہو۔ یا عید کرائی ہو۔ اور ان کو اس جھوٹی خبر دینے سے فائدہ ہی کیا ہے۔ ان کو تو ٹکوں سے کام ہے کسے باشد۔

حاجی لوگ سفر یا حج سے کسی حاجی کے مرنے کی خبر تار کے زریعے دیتے ہیں۔ اس پر عمل ہوتا ہے جنازہ غائب بھی پڑھا جاتاہے۔ کوئی اعتراض نہیں کرتا۔ یہ جنازہ امر دینی نہیں تو کیا ہے۔ نیز اول تو تار کے سارے کارکن کافر ہی نہیں ہوتے۔ بلکہ مسلم بھی ہوتے ہیں۔ نیز روپیہ زیادہ خرچ کر کے خالص مسلموں ہی کو زریعہ  خبر رسانی تار کا بنایا جاسکتا ہے۔ فافہم وتدبر

مولنا عبد الحئی لکھنوی کے مجموعہ فتاویٰ جلد اول مطبوعہ یوسف پریس لکھنو کے ص 218 میں ہے۔ شہادت خطوط یا تار برقی پس چند فقہا ایسے مقامات میں الخط یشبہ الخط لکھتے ہیں ۔ لیکن ایسی صورت میں کہ ظن حاصل ہوجائے۔ اور شبہ قوی باقی نہ رہے اور خبر تار تا خظ بدرجہ پہنچ جائے۔ اس پر عمل ہوسکتا ہے۔ ااور بحب اقتضاء انتظام زمانہ حالی اس پر حکم عام بھی دے سکتے ہیں انتیٰ۔

منع کے دوسرے شبہ کا جو اب یہ ہے۔ کہ یہ رویت ہلال کو اگرچہ فقہائے من وجہ شہادہ لکھا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ یہ امر دینی ہے لہذا روایۃ اخبار کے مشابہ ہے۔ اس لئے اس میں شہادت اور نصاب شہادت اور خصوصیت حریت وذکورریت وغیرہ بھی شر ط یا ضروری نہیں حتیٰ کہ غیر عادل یعنی مستر واحدکی رویۃ بھی کافی ہے۔ تفصیل ہدایہ اور اس کے شروح وحواشی وغیرہ میں ہے تیسرے شبے کا جواب یہ ہے کہ اول تو قضا قاضی کی شرط کتاب وسنت سے ثابت نہیں۔ دوم جب فقہاء نے اس کو امر دینی اور مشابہ روایت اخبار لکھا ہے۔  تو پھر قضا قاضی کی شرط بھی نہ رہی۔ سوم ہندوستان میں قضا کا محکمہ ہی نہیں اگر مفتی عالم کو قائم مقام قاضی ہی بنایا جائے تو دہیات میں یہ بھی اکثر نہیں ہوتے۔ اور حکم شرع کا عام ہے۔ لہذا شرط باطل۔ شبہ 4 کا جواب بھی نمبر 3 میں آگیا۔ کہ نصاب شرط نہیں۔ اگر ہو بھی تو یہ بھی تار کے زریعے ہوسکتاہے۔ شبہ 5 کا جواب یہ ہے کہ   اوپر کی تحقیق سے مخبر کی معرفت بھی ہوسکتی ہے۔ مکرر سہ کرر دریافت کرنے سے اور ٹیلی فون کا معاملہ و بالکل واضح ہے۔ کہ اس میں ایک مسلم دوسرے مسلم سے باقاعدہ گفتگو کرسکتا ہے۔ اس کی آواز کو پہچان سکتا ہے۔ شہادت وغیرہ سب امور طے ہوسکتے ہیں۔ لہذا ٹیلی فون کے زریعے ثقہ کی روایت ہلال کی خبر معتبر ہے۔

جواب نمبر 4۔ ریذیو بھی سی قسم سے ہے۔ اگر اس کا حال معلوم ہے کہ ثقہ خبر دینا کرتا ہے۔ اور آواز بھی اس کی پہچانتے ہیں۔ تو معتبر ہے ورنہ نہیں۔ اورتمام ہندوستان کوریڈیوکی خبر پر عید کرنے کاجواب نمبر ا اور نمبر 2 میں آچکا ہے۔ کہ صرف متفق المطالع شہر اس پر عمل کریں گے۔ مختلف المطالع اس پر عمل نہ کریں گے۔ مولانا نے اخبار میں لکھا ہے کہ اہل حدیث کے نزدیک دور دراز کی رویت ہلال حجت نہیں۔ یہ فیصلہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین  کے زمانہ میں ہوچکا ہے۔ انتہیٰ

میں کہتا ہوں کہ مولانا نے کچھ تفصیل نہیں کی۔ صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین کا یہ کونسا فیصلہ ہے۔ اور کس کس محدث کے نزدیک دور کی رویت حجت نہیں۔ غالباً مولانا کی مراداس سے روایت کریب میں عبد اللہ ابن عباسرضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول مراد ہے۔ کہ کریب نے ملک شام سے آکر ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کووہاں کی رویت کی خبر دی۔ تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو تسلیم نہیں کیا۔ اس پر کریب نے کہا کہ آپ امیرمعاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رویت ہلال اور روزہ پر بھی اکتفا نہیں کرتے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا نہیں کرتے ہم کو رسول اللہﷺ نے ایسا ہی فرمایا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ کل یا اکثر صحابہرضوان اللہ عنہم اجمعین کا فیصلہ نہیں صرف ابن عباسرضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مجمل قول ہے۔ جس کی تفسیر وتشریح مشکل ہے۔ ہکذا کے مشارالیہ کو بتایا جائے کہ کیا ہے۔ اور اس کے ما قبل کیا کیا ہے۔ جب تک اس کا مشارا الیہ قطعی طور پر معین نہ ہو اس سےکچھ بھی ثابت نہیں ہوتا اوراس کا مشارا الیہ قطعاً معین ہوہی نہیں سکتا۔ شائد کسی کوجامع ترمذی کے قول والعمل علی ھذا الحدیث عند اہل العلم سے دھوکا ہو کہ یہ صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین کا فیصلہ ہے تو جواب صرف یہ ہے کہ یہ صرف ایک صحابی رضوان اللہ عنہم اجمعین ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے۔ پھر یہ بھی ثابت نہیں ہوا کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس قول پر دوسرے صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین نے بھی عمل کیا یا نہیں۔ ہاں تین تابعی عکرمہ قاسم۔ اور سالم کا یہ مسلک ہے۔ اور ایک محدث اسحاق کااور یک وجہ شافعیہ کی بھی ہے۔ جس کی تفصیل حافظ صاحب نے فتح الباری میں تحریر کی ہے۔ اس امر میں علمائے کرام کے چھ اقوال یا مذاہب ہیں۔ پھر فیصلہ صحابہ چہ معنی یوں کہیے۔ کہ ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے۔ وہ بھی م جمل جس کی تشریح مشکل نیل الاوطار میں صاف لکھا ہے کہ یہ مسئلہ اجتہادی ہے۔ صرف ابن عباسرضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اجتہاد حجت نہیں ہوسکتا۔ پس قصہ ختم صحیح وہ جواد پر لکھا جاچکا ہے۔

جواب نمبر5۔ اس سوال سے اگر یہ غرض ہے کہ بارہ بجے دن کے دوسرے شہر سے خبر آئی کہ وہاں کل گزشتہ مغرب کو چاند دیکھا گیا تو اس کا جواب نمبر 1 میں آچکا ہے۔ کہ بعد تحقیق وثبوت متفق المطالع شہر سے خبر آنے پر بعد دوپر بھی روزہ افطار کیاجائے۔ اور اگر یہ غرض ہ کہ بارہ بجے دن کے کسی نے اپنے شہر میں چاند دیکھا تو اس کے بار ے میں سلف کے دو قول ہیں۔ کہ آیا وہ چاند شب آئندہ کا ہے۔ یا گزشتہ کا۔ راحج قول اول (1)۔ ہے۔ (الحبیب ابوسعید محمد شرف الدین ناظم مدرسہ سعیدیہ عربیہ پگ بنگش دہلی۔ ’’نور توحید‘‘لکھنو 10 تا 25 جولائی 19051ء)

------------------------------------------------

1۔ حضرت استاد کے اس فاضلانہ تقویٰ پر بعض حضرات نے تعاقب فرمایا تھا۔ جس کا جواب اور مزید علی تحقیقات خودحضرت استاذ موصوف کی قلم سے اخبا ر نورتوھید لکھنو۔ 10 نومبر 51 ء میں ملاحظہ فرمایئے۔ فقط

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ  ثنائیہ امرتسری

جلد 01 ص 659-666

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ