سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(219) (الیوم) یعنی آج سے کیا مراد ہے؟

  • 6007
  • تاریخ اشاعت : 2013-07-28
  • مشاہدات : 1081

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴿٣سورة المائدة سے استدلال کیا جاتا ہے۔ کہ شریعت اسلام ایسی مکمل ہے کے اب اس کے بعد دوسری شریعت کی آمد غیر ضروری  اور محال ہے۔ اس پر چند سوالات  خدمت عالی میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ (الیوم) یعنی آج سے کیا مراد ہے۔ کیا جس دن یہ آیت نازل ہوئی وہ نزول آیت کے لہاظ سے آخری دن تھا۔ جس کے بعد پھر کوئی آیت نازل نہیں ہوئی اگ یہ دن وحی کا آخری دن نہ  تھا۔ تو بعد میں جو وحی نازل ہوئی دین میں داخل ہے یا نہیں؟ اگر داخل ہے جیسا کہ ظاہر ہے۔ تو اس کے  کیا معنی ہوئے کے آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا۔ جب کہ آج کے بعد بھی او ر وحی نازل ہوئی۔ جو دین میں اس طرح شامل ہے۔ جس طرح ہر ایک آیت داخل ہے۔ کہ اگر بعد والی آیت کودین کے دفتر سے خارج قرار دیا جائے توکفر لازم آئے گا۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دین کے معنی خاص احکام فریضہ ہیں یا قرآن وحدیث کے جملہ احکام اصول و فروع ہیں۔ ان دو اصطلاحوں میں سے ہم کسی خاص اصطلاح کو یہاں  ترجیح نہیں دیتے بلکہ دونوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ دین محض اصولی احکام کانام ہے۔ یا مجموعے کا نام اس کی تفصیل کے اندر جانے کی ضرورت نہیں بلکہ قرآن اورسیرت محمدیہ ﷺ سے جو مذہبی حکم ثابت ہو وہ دین ہے۔ ہاں الیوم کے  معنی پر سارا مدار ہے۔ الیوم کے معنی یہاں دن کے نہ یں ہیں۔ بلکہ اس سے مراد زمانہ نبوت محمدیہ ہے تعلیم اسلام چاہے وہ نازل ہوچکی تھی۔ یا کچھ حصہ باقی تھا۔ اور وہ بہت ہی غیر معتدبہ تھا۔ سبکو منصور فی الذہن رکھ کر ارشاد ہوتا ہے ۔ کہ بس اب ہم نے تمہارا دین مکمل کردیا ہے۔ اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی۔ یہ لفظ الیوم وہی ہے جو اہل کتاب کے حق میں وارد ہے۔ کہ  الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن دِينِكُم

پس اب اہل کتاب تمہارے دین کے فنا ہونے سے مایوس ہوگئے ہیں۔ اردو زبان میں آج اور اب میں فرق ہے۔ عربی میں دونوں کے لئے ایک ہی لفظ آتا ہے۔ پس معنی  آیت کریمہ کے یہ ہیں۔

اب جب کہ قرآن مجید اور سیرت محمدیہ ﷺ دنیا میں شائع ہوچکی ہیں۔ ہم نے تمہارا دین مکمل کردیا ان معنی سے کوئی آیت اس آیت کے نزو ل کے بعد میں اتری ہو تو کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ اب کے لفظ سے کوئی خاص دن مراد نہیں بلکہ مراد یہ ہے۔ کہ زمانہ  نبوت محمدیہ میں دین مکمل ہوگیا۔ اس کے بعد کوئی جدید نبی یا ر سول شارع یا غیر شارع نہیں آسکتا۔

  ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ  ثنائیہ امرتسری

جلد 01 ص 395

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ