سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(830) قسم کھائی میں عمر کے ساتھ بات نہیں کروں گا

  • 5198
  • تاریخ اشاعت : 2013-07-01
  • مشاہدات : 973

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص نے قسم کھائی میں عمر کے ساتھ بات نہیں کروں گا لیکن اس نے عمر کے ساتھ کھانا کھایا ، خوشی کے موقع پر شریک رہا تو اس صورت میں فقہاء کے ہاں کفارہ لازم آتا ہے حدیث میں اس شخص کے باے میں کیا حکم ہے؟          (طارق ندیم ، اوکاڑوی)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایک شخص نے قسم کھائی میں عمر کے ساتھ بات نہیں کروں گا۔‘‘ اگر اس نے ’’بات نہیں کروں گا‘‘ سے مراد لیا ہے بات بھی نہیں کروں گا ، اس کے ساتھ کھانا وغیرہ بھی نہیں کھاؤں گا اور کسی خوشی کے کام میں اس کے ساتھ شریک نہیں ہوں گا تو پھر فقہاء کی بات درست ہے ورنہ درست نہیں کیونکہ اس نے بات نہیں کروں گا سے مراد بات کرنا ہی لیا ہے ۔ کھانا کھانا اور خوشی کے کاموں میں شریک نہ ہونا مراد ہی نہیں لیا ۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حدیث ہے رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ اللّٰہَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِیْ مَا وَسْوَسَتْ بِہٖ صُدُوْرُھَا مَالَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَتَکَلَّمْ))1 [’’بے شک اللہ تعالیٰ نے میری اُمت کو وہ باتیں معاف کر دی ہیں جو ان کے دلوں میں وسوسہ کے طور پر آئیں تا وقتیکہ ان پر عمل نہ کریں یا زبان سے نہ نکالیں۔‘‘]تو اس حدیث سے ثابت ہوا ارادۂ و کلام یا اراۂ و عمل یا ارادہ کلام اور عمل کا اجتماع ضروری ہے۔

1 صحیح بخاری/کتاب فی العتق و فضلہ، باب الخطأ والنسیان فی العتاقۃوالطلاق و نحوہ۔ صحیح مسلم/کتاب الایمان/باب بیان تجاوُزِ اللّٰہ تعالیٰ عن حدیث النفس والخواطر بالقلب اذا لم تستقر۔

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02 ص 792

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ