سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(476) کیا فطرانہ کی رقم مدرسہ میں دی جاسکتی ہے؟

  • 4844
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-26
  • مشاہدات : 1027

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فطرانہ کی رقم مدرسہ میں دی جاسکتی ہے؟          (ملک محمد یعقوب)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

فطرانہ صدقہ ہے، بعض أحادیث میں مساکین کا تذکرہ ہے۔ [ ’’ رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم نے صدقہ فطر مقرر فرمایا تاکہ روزے لغو اور فحش کلام سے پاک ہوجائیں اور مساکین کو کھلایا جائے۔ جو شخص اسے نماز سے قبل ادا کرے تو وہ مقبول زکوٰۃ ہے اور جو نماز کے بعد ادا کرے تو وہ صدقات میں سے ایک صدقہ ہے۔ ‘‘ ]1  قرآنِ مجید میں ہے: { إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَآئِ وَالْمَسَاکِیْنِ وَالْعَامِلِیْنَ عَلَیْھَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُھُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغَارِمِیْنَ وَفِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَابْنِ السَّبِیْلِ فَرِیْضَۃً مِّنَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ o} [التوبہ : ۶۰] [ ’’ صدقات تو دراصل فقیروں، مسکینوں اور ان کارندوں کے لیے ہیں، جو ان (کی وصولی) پر مقرر ہیں، نیز تالیف قلب اور غلام آزاد کرانے، قرض داروں کے قرض اتارنے، اللہ کی راہ میں اور مسافروں پر خرچ کرنے کے لیے ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے فرض ہے اور اللہ سب جاننے والا ، حکمت والا ہے۔ ‘‘] آٹھ مصارف ہیں ان کے علاوہ پر کوئی بھی صدقہ ہو، صرف نہیں کیا جاسکتا۔            ۷ ؍ ۱۰ ؍ ۱۴۲۱ھ

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 سنن ابی داؤد ؍ کتاب الزکوٰۃ ؍ باب زکوٰۃ الفطر


قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02 ص 412

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ