سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(44) جمعہ قبل از زوال درست ہے یا نہیں؟

  • 4475
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-19
  • مشاہدات : 603

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جمعہ قبل از زوال درست ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس مسئلہ میں ائمہ دین میں سے امام احمد اور امام اسحاق اور ان کے بعض اتباع بدلیل مفہوم احادیث صحیحہ و منطوق آثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم جواز کی طرف گئے ہیں۔ چنانچہ سید عبدالقادر جیلانی جمعہ کی نماز کا قبل از زوال صحیح یا درست ہونا بدیں الفاظ ارشاد فرماتے ہیں:

ووقتھا قبل الزوال فی الوقت الذی تقام فیہ صلوٰۃ العید (غنیہ)

’’ یعنی وقت جمعہ کا زوال سے پہلے وہی وقت ہے جس میں عید کی نماز ادا کی جاتی ہے۔‘‘

علماء اہل حدیث میں سے شیخ محی الدین مؤلف البلاغ المبین بحوالہ دراری المضیہ مجتہد یمانی امام شوکانی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں اور تحقیق وارد ہوئی وہ چیز کہ دلالت کرتی ہے۔ اس بات پر کہ تحقیق جمعہ پڑھنا کفایت کرتا ہے۔ قبل زوال کے جیسا کہ بخاری میں روایت ہے۔ انس بن مالک سے اور مثل اس کی حدیث سہل بن سعد کی ہے۔ صحیحین میں اور ثابت ہوا بیچ صحیح کے تشریح ہے کہ تحقیق صحابہ رضی اللہ عنہم نماز پڑھتے تھے جمعہ کی قبل ڈھلنے سورج کے۔ پس تحقیق گئے ہیں طرف اس بات کی احمد بن حنبل اور حق یہی ہے۔  (البلاغ المبین)

سید علامہ نواب صدیق حسن خان مسلک الختام میں فرماتے ہیں کہ حدیث جابر ابروایت مسلم دلیل واضح ہے۔ امام احمد کے مذہب پر اور مولانا وحید الزمان صاحب محدث حیدر آبادی شارح صحاح سبعہ تیسیر الباری شرح صحیح بخاری میں حدیث انس رضی اللہ عنہ اور حدیث سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی دو توجیہیں بیان کرتے ہیں ایک موافق مذہب امام احمد کے دوسری موافق جمہور کے باب وقت الجمعہ کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ ہمارے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا یہ قول ہے کہ جمعہ زوال کے پہلے بھی درست ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور کئی صحابہ سلف سے ایسا منقول ہے اور حدیث حین تمیل الشمس کی تشریح لکھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس سے یہ نکلتا ہے کہ آنحضرت اکثر ایسا کیا کرتے مگر یہ نہیں ثابت ہوتا کہ زوال سے پہلے جمعہ درست نہیں۔

انوار اللغۃ حصہ دوم ص ۴۷ میں لکھتے ہیں کہ حنابلہ اور بعض اہل حدیث کے نزدیک جمعہ کی نماز زوال سے پہلے بھی درست ہے اور خلفاء راشدین سے بھی ایسا ہی منقول ہے اور حصہ پنجم ص ۵۷ میں تحریر فرماتے ہیں کہ محققین اہل حدیث نے اس کو جائز رکھا ہے۔ خصوصاً جب گرمی کی شدت ہو یا کوئی عذر ہو۔

زبدۃ المرام ترجمہ عمدۃ الاحکام میں جس کی تصدیق حافظ عبدالمنان صاحب محدث وزیر آبادی نے فرمائی ہے: حدیث سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی تحت میں لکھا ہے کہ قبل ناز زوال جمعہ ادا کرنا بھی بعض کا مذہب ہے۔ امام احمد اور امام اسحاق بھی اس طرف گئے ہیں۔ الی قولہ حدیث میں غور کرنے سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ بعض جمعہ مثلاً ہر دو خطبہ یا ایک یا بعض اس کا ضرور قبل زوال ہوتا تھا۔ 

(صفحہ ۶۷ کتاب مذکور)

مولوی سید محمد حسین شاہ صاحب مرحوم سرگروہ اہل حدیث کشمیر اپنی کتاب صلوٰۃ المحدثین میں لکھتے ہیں: کہ اے نمازی تجھے اختیار ہے کہ جمعہ چاہے زوال سے پیچھے پڑھ لے یا پہلے اور نواب صاحب موعظۃ الحسنہ میں قبل از زوال نماز جمعہ کا ثبوت فرماتے ہیں اور شوکانی صاحب نیل الاوطار میں اور ابن قیم رحمہ اللہ ہدی میں خوب وضاحت فرماتے ہیں۔ پس انہی جیسے بزرگوں کی شہادت پر اعتماد کرکے میرے والد ماجد سلمہ اللہ نے اس کو جائز مان لیا اور اس پر عمل بھی کیا۔ اب اتنے بزرگوں کو العیاذ باللہ بے عقلی یا نادانی کی طرف منسوب کرنا اہل علم و عقل سے بمراحل بعید ہے اور خلاف جمہور کا الزام دینے والا مسئول ہونے کے وقت بیسیوں مسائل میں خود ملزم ثابت ہو جائے گا۔ 

(ابو البشیر عبدالغنی الشوبیانی)

محدث روپڑی

مولوی عبدالغنی صاحب نے جو کچھ لکھا ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ وغیرہ قبل از زوال جمعہ کے قائل ہیں اور بعض اہل حدیث بھی اس طرف گئے ہیں۔ یہ بالکل ٹھیک ہے اور دلیل ان کی وہی روایات ہیں جن کی طرف اوپر اشارہ ہوچکا ہے۔ اس لیے اگر کوئی قبل از زوال جمعہ پڑھ لے تو اس پر طعن نہ کرنا چاہیے۔ کیوں کہ یہ اختلاف سلف کی حدود میں ہے۔ ہاں احتیاط اسی میں ہے کہ بعد از زوال پڑھا جائے کیوں کہ جمعہ فرض ہے اور فرض کا معاملہ نازک ہے اور جن احادیث سے امام احمد رحمہ اللہ وغیرہ استدلال کرتے ہیں ان میں بعد از زوال کا بھی احتمال ہے اور جمہور کا مذہب بھی یہی ہے۔ اور امام احمد رحمہ اللہ وغیرہ اگرچہ قبل از زوال کے قائل ہیں لیکن بعد از زوال کے بھی قائل ہیں تو گویا بعد از زوال متفقہ وقت ہے۔ اور قبل از زوال اختلافی ہے۔ اس لیے احتیاط بعد از زوال ہی میں ہے۔ تاکہ فرض کی ادائیگی میں کوئی کھٹکا نہ رہے۔ 

مولانا عبداللہ امرتسری     

(فتاویٰ اہل حدیث ۳۵۸ )

 


فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 04 ص 102

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ