سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(36) خطبہ جمعہ وغیرہ میں واسطے سمجھانے عربی نہ جاننے والوں..الخ

  • 4467
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-19
  • مشاہدات : 592

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس امر میں کہ خطبہ جمعہ وغیرہ میں واسطے سمجھانے عربی نہ جاننے والوں کے خطبہ عربی کا اُردو پنجابی یا فارسی میں حسب حاجت ترجمہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اقوال و باللہ احول ماہران شریعت پر مخفی نہیں کہ خطبہ لغت عربیہ میں وعظ و نصیحت کو کہتے ہیں جیسا کہ عبارات کتب لغت سے ظاہر ہے۔

الخطب والمخاطبۃ والتخاطب المراجعۃ فی الکلام ومنہ الخطبۃ والخطبۃ لکن تختص بالموعظہ والخطبۃ للطلب المرأۃ انتھی مافی مفردات القراٰن للامام راغب بن الحسین مختصرًا خطبۃ بالضم : کلام کہ درستائش خداوند نعت نبیﷺ و موعظت خلق باشد ونثر مسجع انتہی مافی منتہی الارب الوعظ والموعظۃ ھو مقترن بتخویف وقال الخلیل وھو التذکر بالخیر فیما یرق بہ القلب قال اللہ عزوجل یعظکم لعلکم تذکرون وقال قد جاتکم موعظۃ من ربکم الٰی اٰخر ما فی مفردات القرآن۔

پس یہ بات ثابت ہوئی کہ خطبہ وعظ کو کہتے ہیں اور غرض و غایت درس و وعظ قرآن مجید و حدیث شریف سے یہ ہے کہ سامعین وعظ سن کر اس سے پند پذیر و عبرت گیر ہوں اور مطلب و معنی آیت وما انزلنا علیک الکتاب الا لتبین لھم الذی اختلفوا فیہ ومعنی اٰیۃ وانزلناہ الیک لتخرج الناس من الظلمات الی النور وغیرھاکے اسی پر دال ہیں کہ سامعین غیر عربی دان کو بدون سمجھانے معنی اور واقف کرانے اس کے عبارت درس و وعظ سے کچھ حاصل نہیں اسی لحاظ سے خدائے تعالیٰ نے فرمایا وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہٖ لیبین لھم الایۃ وبیان مستلزم تفہیم و تفہم کو ہے اور بغیر قصد تفہیم و تفہم کے درس ووعظ معریٰ عن المقصود ہوگا۔ کمالا یخفی علی المتامل اما بالنسبۃ الی عامۃ الخلق فھو انہ تعالیٰ ذکر انہ مابعث رسولا الٰی قومہ الا بلسان اولئک القوم فانہ متی کان الامر کذالک کان فھمھم لاسرار تلک الشریعۃ ووقوفھم علی حقائقھا اسھل وعن الغلط والخطاء ابعد انتھی مافی التفسیر الکبیر مختصرا قولہ لیبین لھم ما امروا بہ فیتلقونہ منہ بیسرو سرعۃ انتھی ما فی تفسیر ابی السعود (الی ان) ثم ینقلوہ ویترجموہ لغیرھم انتھی ما فی البیضاوی اور فرمایا سورہ نحل میں ان اللّٰہ یامر بالعدل والاحسان وایتاء ذی القربی وینھی عن الفحشام والمنکر والبغی یعظکم لعلکم تذکرون قولہ لعلکم تذکرون لیس المراد منہ الترجٰی والتمنی فان ذلک محال علی اللہ تعالیٰ فوجب ان یکون معناہ ان اللّٰہ تعالیٰ یعظکم لاراوۃ ان تتذکرو اطاعۃ انتھی مافی التفسیر الکبیر لعلکم تذکرون طلباً لان تتعظوا بذلک انتھی مافی تفسیر ابی السعود  ۔پس ان تفاسیر سے صاف ظاہر و واضح ہوا کہ بدوں سمجھنے معنی کے تذکر واتعاظ متعذر و دشوار ہے۔ بنابر اس کے ترجمہ وعظ و درس و خطبہ کا غیر عربی دان کے واسطے ضرور چاہیے اور وعظ وخطبہ بدوں ترجمہ کے واسطے سامعین غیر عربی دان کے برائے نام ناکام و غرض تا تمام ہوگا۔ کیوں کہ درس و وعظ خطبہ واسطے تفہیم و تفہم سامعین کے موضوع و مقرر ہوتا ہے کہ سامع بوجھ و سمجھ کر متنبہ ہو جاوے اور براہِ راست آجاوے اسی نظر سے آنحضرتﷺ نے خطبہ حج و جمعہ وغیرہ میں فرمایا: فلیبلغ الشاھد الغائب اور بے سمجھ کیا پہنچاوے گا۔ قاضی بیضاوی نے لیبین لہم کے تحت تصریحا لکھ دیا فیتفقھوہ ثم ینقلون ویترجموہ لغیرھم محض اس لیے کہ جب تک واعظ و خطیب کا وعظ و بیان سامعین کے مرکوز خاطر نہ ہوگا۔ محض لغو و بیکار ہوگا کیوں کہ جو غرض شارع کی اس خطبہ و وعظ سے تھی، وہ فوت ہوگئی۔ کمالا یخفی علی المتامل المتفطن اگر کوئی کہے کہ نماز میں بھی قاری کو چاہیے کہ مقتدی کے واسطے ترجمہ قرأۃ کا کرے تاکہ وہ اس کے معنی سمجھ بوجھ لے۔ تو یہ قیاس مع الفارق ہے کیوں کہ قرآن کا پڑھنا امام و مقتدی دونوں پر نماز میں واجب ہے۔ حسب ارشاد خداوند کریم کے فَاقْرَئُ وْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرآنِ پس امر وجوبی صیغہ فاقروا سے واضح ہو کہ ہر نمازی کو خواہ امام ہو یا مقتدی نظم قرآن کو خاص عربی منظوم کا نام ہے جو بنقل و تواتر ہم تک پہنچا، پڑھنا ضرور دلا بد ہے۔ اور زبان فارسی وغیرہ میں ترجمہ اس کا نماز میں کرے تو منقول خاص متواتر باقی نہ رہے گا، کیوں کہ اس پر اطلاق قرآن کا نہ ہوگا تو خلاف مامور بہ کا لازم ہوگا۔ پس اسی سبب سے ترجمہ قرآن کا نماز میں پڑھنا ممنووع مخطور ہوگا۔ کمالا یخفی علی ماہری الشریعۃ علاوہ ازیں نماز ذکر ہے اور خطبۃ تذکیر ذکر اور تذکیر کا حکم ایک کب ہوسکتا ہے احناف کرام نے بھی خطبہ کو بزبان عربی منحصر نہ رکھا۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور صاحبین اس پر متفق ہیں، وبعض حنفیہ نے لکھا ہے کہ صاحبین نے وقت عجز جائز رکھا نہ بلا عجز۔ لیکن قول امام اعظم صاحب کا معتمد ہے۔

تتھم لم یقید الخطبۃ بکونھا بالعربیۃ اکتفاء بما قدمہ فی باب صفۃ الصلوٰۃ من انھا غیر شرط ولو مع القدرۃ علی العربیۃ عندہ خلافالھما الاعند شرطاھا حیث عند العجز انتھی مافی الشامی قولہ وشرطا عجزہ المعتمد قولہ ای الامام ابی حنفیۃ انتھی مافی الطحطاوی اور ہر گاہ نص مذکور مساعد ترجمہ کا واسطے غیر عربی دان کے ہوا تو پھر اگلے پچھلے سے ہم کو باک نہیں۔ تلک امۃ قدخلت لھا ماکسبت ولکم ماکسبتم ولا تسئلون عما کانوا یعملون۔ واللہ اعلم و ہوالموفق للصواب فلیعتبروا اولو النہی والالباب۔

سید محمد نذیر حسین … سید عبدالسلام… سید محمد ابوالحسن

ھذا الجواب صواب لامریۃ فیہ واما احتجاج المانعین للجواز بانہ لم ینقل الینا عن احد من السلف انہ ترجم بلسان الاعاجم فمنقوض بانہ لایلزم من عدم النقل عدم الثبوت علی ان مارواہ مسلم عن جابر بن سمرۃ من انہ کانت للنبی ﷺ خطبتان یجلس بینھما یقرأ القراٰن ویذکر الناس وفی روایۃ یعظھم صریح فی الجواز فان اثر الوعظ والتذکیر فی بلاد العجم لایمکن حصولہ الا بالترجمۃ۔

عبدالتواب

چونکہ خطبہ میں شارع کی طرف سے کوئی تعین کلمات کی وارد نہیں ہوئی بلکہ فقط حمد و ثناء بما ہوا ہلہ اور تذکیر بالقرآن اور امر بالمعروف وارد ہوا ہے اور تذکیر عوام اہل ہند کو بغیر ترجمہ کے ممکن نہیں اس لیے بموجب دلائل فتوے بالاخطبہ میں ترجمہ قرآن کا کرنا اور وعظ کہنا اور امر بالمعروف کرنا زبان ہندی میں جائز ہے۔ فقط حررہ محمد تغمہ اللہ الصمد بالرحمۃ والفضل المؤید

خادم شریعت رسول الاداب ابو محمد عبدالوہاب

مقصود شارع کا شریعت خطبہ سے صرف پندو موعظت ہی ہے پس جب خطبہ اس مقصود سے خالی ہوگا، تو حقیقت میں وہ خطبرہ ہی نہیں یوں ہی برائے نام بطور رسم سمجھا جائے گا، بیشک خطبہ میں وعظ جس زبان میں حاجت پوری کرسکتے ہیں کریں۔ جو لوگ خطبہ میں وعظ بزبان عجمی کرنے کے باوجود و داعی شدیدہ کے منع کرتے ہیں وہ مقصود خطبہ سمجھنے سے بے خبر ہیں۔ فقط حررہ محمد ابراہیم بن مولوی احمد ساکن جزیرہ حبشان۔ جواب بہت ہی صحیح ہے۔ عبدالرحمن بن عبدالکریم 

جواب:…  خطبہ جمعہ کا ہو خواہ کسی اور مجل کا مقصود صرف وعظ و تذکیر ہے۔ پس اگر یہ وعظ تذکیر صرف عربی عبارت سے ہوسکے اور اس کو اکثر مخاطبین و حاضرین مجلس سمجھیں تو عربی پر اکتفا کرنا اولیٰ ہے۔ اور اگر اکثر مخاطب عربی نہ سمجھیں تو اس کا ترجمہ ہندی میں اور دوسری زبانوں میں جو مخاطب سمجھیں ضروری ہے۔ صحیح مسلم میں جابر بن سمرہ سے روایت ہے۔ کانت للنبی ﷺ خطبتان یجلس بینھما یقرأ القراٰن ویذکر الناس نودی نے شرح مسلم میں لکھا ہے۔ ۔فیہ دلیل للشافعی فی انہ یشترط للخطبۃ الوعظ والقرأۃ  جو لوگ ہندیوں میں عربی نہ سمجھتے ہوں ، صرف عربی خطبہ کو اکتفا کرنے کو واجب جانتے ہوں اور ترجمہ کرنے کو ناجائز کہتے ہیں، وہ خطبہ کی حقیقت سے ناواقف ہیں۔ اور مقصود شرع سے بے خبر ہیں۔ اس باب میں ایک مفصل اشاعۃ السنۃ شائع ہوگا۔ اس لیے اس مقام میں زیادہ تفصیل نہیں ہوئی۔  (ابو سعید محمد حسین)

ان الحکم الا للہ اگر کوئی شخص اس طور پر خطبہ پڑھے کہ اس میں عبارات عربی مثل آیات قرآنی اور احادیث اور ادعیہ ماثورہ کچھ نہیں ہوں تو یہ صورت جائز نہیں ہے۔ اور اگر ایسا نہ کرے بلکہ عباراتِ عربیہ کو بھی پڑھے۔ اور اس کے بعد اس کا ترجمہ کردے تاکہ عوام الناس کو اس سے فائدہ پہنچے یہ صورت جواز کی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کانت للنبی ﷺ خطبتان یجلس بینھما یقرأ القران ویذکر الناس۔ جب تک ترجمہ نہیں کیا جائے گا۔ تو عوام الناس کیوں کہ سمجھیں گے اور تذکیر کا اختصاص بھی آنحضرتﷺ کے ساتھ اس مقام میں کسی دلیل سے ثابت نہیں ہے۔ لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ کافی و وافی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ حررہ ابو الطیب محمد المدعو بشمس الحق العظیم آبادی عفی عنہ

ابوطیب محمد شمس الحق … محمد اشرف عفی عنہ … ابو عبداللہ محمد ادریس

شرفیہ

خطبہ جمعہ کا مقصد حاضرین نمازیوں کی زبان میں ان کو اللہ و رسول کی باتیں قرآن پاک و احادیث صحیحہ سے سنانا ہے جس پر یہ حدیث دال ہے۔ عن جابر بن سمرۃ قال کانت للنبی ﷺ خطبتان یجلس بینھما یقرأ القران ویذکر الناس رواہ مسلم مشکوٰۃ ص۱۲۳ ج۱۔ اور یہ بدیہی امر ہے کہ تذکیر بلا تفہیم سامعین نہیں ہوسکتی اس لیے جو لوگ عربی زبان سے ناواقف ہیں عربی سے ان کی تفہیم کا حق ادا کرنا ناممکن ہے، جب تک آیات قرآنی کا مطلب خود ان کی زبان میں ان کو نہ سمجھایا جائے لہٰذا ایسا خطبہ جس کو سامعین سمجھ ہی نہ سکیں فضول ہے اور خلاف شرع بھی کیوں کہ شارع علیہ السلام کا جو مقصد عظیم ہے وہ فوت ہوجاتا ہے۔ لہٰذا دیسی زبان میں سمجھانا لازم ہے اور خلاف اس کا باطل۔  ابوسعید شرف الدین دہلوی

(فتاویٰ ثنائیہ جلد اول ، ص ۶۲۸)

 

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 04 ص 84-89

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ