سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

سورۃ فاتحہ کا دم کرنا

  • 439
  • تاریخ اشاعت : 2011-12-08
  • مشاہدات : 125

سوال

سوال: السلام علیکم میرے جسم میں درد ہو تو میں سورۃ فاتحہ پڑھ کر اپنے اوپر دم کر دیتا ہوں یعنی کثرت سے ۔کیونکہ قرآن مومنوں کے لیے شفا ہے۔تو کیاکثرت سے ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب: کوئی حرج نہیں ہے، کیا جا سکتا ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے قیام میں صبح تک ایک ہی آیت کا تکرار کیا یا کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے سورۃ اخلاص کا رات بھر تکرار کیا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کو برقرار رکھا۔

روى النسائي (1010) وابن ماجه (1350) عن أَبي ذَرٍّ رضي الله عنه قال : قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِآيَةٍ حَتَّى أَصْبَحَ يُرَدِّدُهَا ، وَالآيَةُ : ( إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ) حسنه الألباني في صحيح النسائي .

وروى البخاري (5014) عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلا سَمِعَ رَجُلا يَقْرَأُ : ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) يُرَدِّدُهَا ، فَلَمَّا أَصْبَحَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، وَكَأَنَّ الرَّجُلَ يَتَقَالُّهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ) .

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ