سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(196) اگر رمضان میں عشاء کے وقت کسی کی موت واقعہ ہو جائے

  • 4159
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-15
  • مشاہدات : 453

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر رمضان میں عشاء کے وقت کسی کی موت واقعہ ہو جائے۔ اور میت صبح تک پڑی رہے تو اس احاطہ یا محلہ والے سحری پکا کر کھا سکتے ہیں یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

محلہ یا احاطہ والے نہیں بلکہ گھر والے بھی کھا سکتے ہیں۔ ممانعت کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ کھاناپکا کر کھا لینا جائز ہے۔ (اخبار اہل حدیث سوہدرہ ج ۸ ش ۱۹۔ ۵ شوال ۱۳۷۵ھ)

توضیح:… میت کے پاس کھانا اور پکانا بخاری شریف جلد ۱ ص ۱۷۳ کی مندرجہ ذیل حدیث سے جائز ثابت ہوتا ہے۔

((انہ سمع انس بن مالک یقول اشتکیٰ ابن لابی طلحۃ قال فمات وابو طلحۃ خارج فلام رأت امرأتہ (ھی ام سلیم ام انس) انہ قدمات ھیّات شیئا وَعَظَّتْہٗ فی جانب البیت (ای جعلتہ) فلما جاء ابو طلحۃ قال کیف الغلام قالت قدھا نفسہ وسکن وارجوان یکون قد استراح وظن ابو طلحۃ انھا صادقۃ قال فبات ای فجامع فلما اصبح اغتسل فلما اراد ان یضرج اعلمتہ انہ قدمات فصلی مع النبی ﷺ ثم اخبر لانبی ﷺ بما کان منھا فقال رسول اللّٰہ ﷺ لعل اللّٰہ ان یبارک لھما فی لیلتھا))

’’یعنی حضرت انس فرماتے ہیں کہ میری والدہ ام سلیم نے مصیبت کے وقت بھی غم کو ظاہر نہیں کیا۔ حتی کہ ابو طلحۃ کا بیٹا جو بیما ر تھا وہ فوت ہو گیا تو ام سلیم طلحۃ کی بیوی نے فوت شدہ لڑکے کو مکان کے طرف لیٹا دیا۔ اور کھانا تیار کیا۔ اور اپنے آپ کو زینت سے آراستہ کیا۔ جب ابو طلحۃ باہر سے گھر آئے تو بیٹے کا پوچھا تو مائی نے کہا کہ اب آرام سے سو گیا ہے، ابو طلحۃ نے عورت کو صادقہ تصور کر کے اس کے ساتھ رات گذاری صبح کے وقت غسل کیا۔ جب مسجد کو جانے لگا تو بیٹے کی وفات کی خبر دی نماز کے بعد ابو طلحہ نے نبی ﷺ سے بیان کیا تو آپ نے برکت کی دعا فرمائی، اور کھانے وغیرہ سے منع نہیں فرمایا۔ واللہ اعلم۔‘‘

(الراقم علی محمد سعیدی خانیوال)

 


فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 06 ص 429

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ