سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(189) اگر کوئی حافظ اہل حدیث بیس رکعت تراویح پڑھاوے..الخ

  • 4152
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-15
  • مشاہدات : 684

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر کوئی حافظ اہل حدیث بیس رکعت تراویح پڑھاوے۔ اور بیس رکعت میں آٹھ رکعت کو سنت نبوی سمجھے اور بقیہ رکعات کو نوافل خیال کرلے تو درست ہے یا نہیں۔ کیا بیس رکعت تراویح پڑھنا پڑھانا بدعت فاروقی ہے، حالانکہ ایک روایت مرفوع ضعیف بروات ابن عباس سنن بیہقی وطبرانی و ابن ابی شیبہ میں آئی ہے۔ ((ان النبی ﷺ کان یصلی فی رمضان عشرین رکعۃ سوی الوتر)) (نصب الرایۃ ج ۲ ص ۱۵۳)

ونیز بیس رکعت تراویح پر تعامل صحابہ و تابعین بھی ہے۔ ((عن السائب ابن یزید قال کنا نقوم فی زمن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بعشرین رکعۃ والوتر رواہ البیہقی فی المعرفۃ قال النووی فی الخلاصۃ وفی شرح المھذب ایضاً اسنادہ صحیح)) (نصب الرایۃ ج ۲ ص ۱۵۴)

((وقال العلامۃ الفاضل الکھنوی عبد الحی الحنفی فی عمدۃ الرعایۃ حاشیۃ شرح الوقایۃ نعم ثبت اھتمام الصحابۃ علی عشرین فی عہد عمر و عثمان وعلی فمن بعد ھم اخرجہ مالک وابن سعد والبیھقی وغیرھم وما واظبت علیہ الخلفاء فعلا او تشریعا ایضاً سنۃ لحدیث علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین اخرجہ ابو داؤد و ابن ماجۃ والترمذی ایضاً))

اور مقلدین ائمہ اربعہ کا تعامل بھی آج کل اسی پر ہے، حرمین وغیرہ میں پس دریافت طلب امر یہ ہے کہ بیس رکعات تراویح پڑھنا یا پڑھانا آٹھ رکعت کو مسنون سمجھتے ہوئے درست ہے یا نہیں۔ اور اس کو بدعت عمری کہنا کیسا ہے، اور اثر حضرت عمر بن الخطاب صحیح قابل استدلال ہے یا نہیں۔ مدلل اس پر خامد فرسائی کریں۔ یہ مسئلہ اختلافیہ ہے انصاف کو ملحوظ فرما دیں۔

(سائل عبد الحق محب السنۃ بہاولپوری)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

((وہو اللہ الملہم بالصدق والصواب)) از قلم حقیقت رقم حضرت الفاضل مولانا عبد الجلیل صاحب سامرودی سلمہ ربہ۔

جواب:… ((لقد کان لکم فی رسول اللّٰہ اسوۃ حسنۃ لم کان یرجوا اللّٰہ والیوم الاٰخر)) رسول اللہ ﷺ سے تراویح آٹھ رکعت سے زائد بالاتفاق موافق و مخالف ثابت نہیں بلکہ بیس کی روایت صحیح کے معارض ہے، فاضل لکھنوی تعلیق المجد ص ۱۱۰ میں رقم طراز ہیں۔

((قال جماعۃ من العلماء منھم الزیلعی وابن الھمام والسیوطی والزرقانی ان ھذا الحدیث مع ضعفہ معارض لحدیث عائشۃ الصحیح فی عدم الزیادۃ علی احدی عشرۃ رکعۃ فیقبل الصحیح ویطرح غرہ ثم قال لا شک فی صحۃ حدیث عائشۃ وضعف حدیث ابن عباس وقال فتحصل من ھذا کلہ ان قیام رمضان لسنتہ احدی عشرۃ رکعۃ بالوتر فعلہ علیہ السلام ثم ترکہ لعذر بہٖ صرح ابن الھمام فی شرحہ ج ۱ ص ۲۰۵ وقال صاحب بحر الرائق ایجاً لا شک فی تحقق الامر من بعد وفاتہ ﷺ))

شیخ عبد الحق شارح مشکوٰۃ اپنی کتاب فتح سراج الدین فی تائید مذہب النعمان قلمی ص ۳۲۷ میں فرماتے ہیں۔

((ولم یثبت روایۃ عشرین کما ھو المتعارف الاٰن الا فی روایۃ ابن ابی شیبۃ من حدیث ابن عباس کان رسول اللّٰہ ﷺ وذکر الحدیث ثم قال و قالوا اسنادہ ضعیف وقد عارضہ حدیث عائشۃ وھو حدیث صحیح وکانت عائشۃ رضی اللہ عنہا اعلم بحال النبی ﷺ وکان الامر علیٰ ذلک بامرہ))

نصب الرایہ زیلعی طبع ہند ج ۱ ص ۲۹۳ فتح القدیر جلد ۱ ص ۲۰۵ میں بعد ذکر یہ روایت ابن عباس ((متفق علیہ ضعفہ مع مخالفۃ الصحیح)) اوجز المسالک میں زکریا کاندھلوی ابناء عصر سے تحریر کرتے ہیں۔ ((لا شک ان تحدید التراویح فی عشرین لم یثبت مرفوعاً عن النبی ﷺ بطریق صحیح علی طریق اصول المحدثین وَمَا ورد فیہ من روایۃ ابن عباس متکلم فیہا علی اصولھم)) انور شاہ کشمیری فیض الباری ج ۲ ص ۴۲۰ باب قیام النبی میں لکھتے ہیں۔ ((ثم ان التراویح لم یثبت مرفوعاً زید من ثلاث عشرۃ رکعۃ الا بطریق ضعیف وقال الثابت منہ ثلاث عشرۃ رکعۃ)) لطائف قاسمیہ مکتوب سوم ص ۱۸ میں نانوتوی لکھتے ہیں۔ ویازدہ از فعل سرور ﷺ آکد از بست ست مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں فاضل ہلہم من اللہ شر بنلالی حنفی لکھتے ہیں۔ ((ولافاض من تسلیم ان تراویحہ علیہ السلام کانت ثمانی رکعات ص ۳۳۰)) میں لکھتے ہیں ((واما النبی ﷺ فصح عنہ ثمان رکعات واما عشرون رکعۃ عنہ علیہ السلام بسند ضعیف وعلیٰ ضعفہ اتفاق))

امام محمد تلمیذ الامام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اپنی موطا میں باب قیام شہر رمضان قائم کر کے حدیث عائشہ رضی اللہ عنہ ہی کو پیش کیا جس میں ((ماکان یزید فی رمضان ولا فی غیرہ علی احدی عشرۃ رکعۃ)) جو اس امر پر صریح اور واجح طور پر دال ہے، کہ قیام رمضان حنفیہ کے نزدیک بھی وہی گیارہ مع الوتر ہیں، زائد نہیں، اور اسی کو ابن الہمام اور ابن نجیم صاحب بحر و دیگرمحققین احناف نے قرر فرمایا بلکہ فاضل طحطاوی شرح در مختار ج ۱ ص ۳۹۶ طبع مصر میں اور ابو السعود شارح کنز ص ۶۶۰ طبع مصر میں فاضل …سے نقل کرتے ہیں۔ ((لان النبی ﷺ لم یصلہا عشرین بل ثمانیا ولم یواظب علٰی ذلک)) البتہ ایک بات لکھی تھی وہ یہ تھی کہ بیس متعاہدہ میں سنت نبوی ﷺ تو صرف آٹھ ہی ہیں، اور بارہ بحسب فعل خلفاء کی بناء پر۔ مگر میں کہتا ہوں۔ اس میں فاضل ابن ہمام سے تساہل ہوا ہے، خدا درگزر کرے وہ یہ ہے کہ قول خلفاء سے آج تک کسی نے ثابت نہیں کیا۔ اور نہ کرنے کی کسی میں جرأت ہے، صحیح سند سے، ایک روایت سنن کبریٰ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ہے، مگر ثابت نہیں، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، وہ دو طریق پر ہے، ایک ان کے زمانہ کی اطلاع اور ثانی امر فاروق رضی اللہ عنہ۔ ان کے زمانہ کی اطلاع ایک تو بطریق منقطع ہے، چنانچہ مؤطا میں بروائت یزید بن رومان وارد ہے، اور یہی سنن کبریٰ وغیرہ میں ہے۔ فاضل سیوطی المصابیح میں لکھتے ہیں۔

((لکن فی المؤطا ومصنف سعید بن منصور بسند فی غایۃ الصحۃ عن السائب بن یزید احدیٰ عشرۃ رکعۃ))

ص ۷۷ جلد نمبر ۲ میں فاضل سیوطی لکھتے ہیں۔

((قال الجوزی من اصحابنا عن مالک انہ قال الذی جمع علیہ الناس عمر بن الخطاب اھب الی وھو احدی عشرۃ رکعۃ وھی صلوۃ رسول اللہ ﷺ قیل لہ احدی عشرۃ رکعۃ بالوتر قال نعم وثلث عشرۃ قریب قال ولا ادری من این اھدث ھذ ا الرکوع الکثیر))

میں کہتا ہوں گیارہ رکعت بحکم عمر رضی اللہ عنہ یہ طحاوی شرح معانی الاثار میں بھی ہے، اس میں صاف اور واضح ہے کہ ((امر عمر ابن الخطاب ابی بن کعب وتمیم الداری ان یقوما الناس للناس باحدیٰ عشرۃ رکعۃ))

قیام اللیل مروزی میں بھی ہے، امر بالاتفاق اقویٰ ہوا کرتا ہے، اور لوگوں کا فعل اس سے نفس خلیفہ کو کیا۔ واسطہ لوگوں کا کرنا یہ قابل حجت بالاتفاق نہیں ان کا تعامل ان کا حکم البتہ قابل سماعت ہے، اور ((علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین)) ان کے فعل سے تعلق رکھتا ہے، یا تعامل عہد خلفاء سے سوچنے کی بات ہے، یہ اہل تحقیق حنفیہ کا بھی کلام نہیں۔ البتہ ضعفاء الناس کا ضرور خیال ہے، ورنہ آئیے ہم بتاتے ہیں کہ خلفاء کا امر اور فعل بھی ان کے ہاں اس قابل نہیں کہ ان کے مقابل امام کی بات ترک کی جاے دیکھو۔ زکوٰۃ الجنین۔ اخراج النساء الی المصلی۔ حکم بالشاہد والیمین۔ وتر برکعۃ واحدۃ۔ وقطع الید فی دراہم۔ مسئلہ غلس۔ سجود تلاوت قرن۔ قطع النباش۔ وجوب وتر۔ تکبیرات رکوع۔ نکاح بلا ولی۔ طلاق المکرہ۔ مسح العمامہ۔ زکوٰۃ مال الیتیم۔ ایمان کی کمی بیشی۔ مسح جوابین۔ جلد وطن زانی وغیرہ وغیرہ اپنے اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر دیکھیں ان مقامات میں تو ان کے اقوال و اعمال تک موجود ہیں۔ یہاں علیکم بسنتی حدیث غالباً مننسوخ ہو گئی ہو گی۔ اور جہاں نہ فعل خلیفہ اور نہ ہی امر وہاں علیکم بسنتی وارد۔ فیاء اللہ العجب وضعیفۃ العلم والادب

بعض لوگ تہجد و تراویح کو جداگانہ قرار دے کر زیادت علی الثمانیہ پر بھی استدلال کرتے ہیں العرف الشذی ص ۳۲۹ میں ہے۔ ((ولم یثبت فی روایات انہ علیہ السَّلام صلی التراویح والتہجد علی حدۃ فی رمضان)) فیض الباری ص ۴۲۰ میں لکھا ہے۔ ((قال عامۃ العلماء ان التراویح وصلوۃ الللیل نوعان مختلفان والمختار عندی انھما واحد وان اختلف صفتھما)) رہا بیس کو سنت عمری بدعت عمری کہنا اصلاً غلط ناقابل مسموع۔ پہلے معلوم ہو چکا ہے کہ بیس رکعت نہ ہی فعل عمر سے وارد اور نہ ہی امر فاروق سے ثابت۔ پھر زبردستی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متھے تھوپنا کیا انصاف مراحل دور نہیں اور نہ ہی رسو اللہ ﷺ سے فاضل سیوطی حاولی ص ۷۵ جلد ۲ میں لکھتے ہیں۔

((ولو فعل العشرین ولو مرۃ لم یترکہا ابداً ولو وقع ذلک لم یخف علی عائشۃ رضی اللہ عنہ حیث قالت ما تقدم فالحاصل ان العشرین لم تثبت من فعلہ ﷺ والکلام فیہ اکثر ما تری وھذا القدر کاف لمن اراد التذکر والھدیٰ وھو ولی الھدایۃ واعلم بمن اھتدیٰ))

(فتاویٰ ستاریہ جلد ۳ ص ۱۶، ۲۰)


فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 06 ص 413-416

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ