سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

حیات بعدالموت کا عقیدہ رکھنا

  • 412
  • تاریخ اشاعت : 2011-12-07
  • مشاہدات : 195

سوال

سوال: اسلام و علیکم۔  یہ میرا اس فارم پر پہلا دھاگہ ہے۔  میرے کزنز نے مجھے سے یہ سوال کیا اور کہا کہ ہم حیا ت بعد الموت کا عقیدہ یہاں سے لیتے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے قرآن میں اللہ کی راہ میں جہاد کر نے والوں کا زکر کیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں مردہ نہ

جواب: حیات چار قسم کی ہے:
1۔ حیات قبل از پیدائش مثلا ماں کے پیٹ میں
2۔ دنیوی حیات، جسم و روح کے اجتماع کے ساتھ
3۔ برزخی حیات یعنی روحانی زندگی جو موت کے بعد حاصل ہوتی ہے اور موت روح کے جسم انسانی سے جدا ہونے کا نام ہے۔ پس موت طاری ہونے کے بعد اللہ تعالی شہداء کی ارواح کو سبز پرندوں کے اجسام میں ڈال کر جنت میں داخل کر دیتے ہیں۔ برزخی حیات دنیاوی جسم کے ساتھ نہیں ہوتی ہے بلکہ اس میں روح تو وہی ہوتی ہے لیکن یہ جسم نہیں ہوتا ہے۔
4۔ اخروی حیات جو حشر و نشر کے بعد جنت و جہنم میں حاصل ہو گی۔

پس شہداء کی زندگی برزخی ہے کہ جس کا ہم شعور نہیں رکھتے ہیں یعنی وہ اس دنیاوی زندگی جیسی نہیں ہے کہ ہم اسے اس زندگی پر قیاس کریں۔ موت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان کی روح بھی مر جاتی ہے بلکہ روح زندہ رہتی ہے اور اس روح کی زندگی کو ہی برزخی حیات قرار دیا گیا ہے اور برزخی حیات ہر قسم کے اہل قبر کو حاصل ہے یعنی یہ اولیاء یا انبیاء یا شہداء یا صالحین کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اگر برا ہے تو اس پر جہنم کو صبح و شام پیش کیا جاتا ہے اور اگر اچھا ہے تو اس کو جنت کے باغات صبح و شام دکھائے جاتے ہیں۔

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ