سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(31) عمرہ کے اوقات

  • 3724
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-09
  • مشاہدات : 571

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته 

عمرہ کے اوقات کیا ہیں اور دو عمروں کے درمیان کتنا فاصلہ ہونا چاہیے، تعامل صحابہؓ اس مسئلہ میں کیا ہے؟

کیا دو عمروں کے درمیان اتنا فاصلہ ضروری ہے کہ سر کے بال اگ آئیں؟

کیا دو عمروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہونا چاہیے کہ وطن واپس آکر دوبارہ مثل حج سفر کر کے جائے یا قیام مکہ میں بھی متعدد عمرے کیے جا سکتے ہیں؟

عمرہ کے کیا کیا شرائط ہیں جن کے فقدان سے عمرہ نہیں ہوتا اور ان کی موجودگی ضروری ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عمرہ کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ بارہ ماہ درست ہے، دو عمروں کے درمیان کے فاصلہ کا کسی روایت میں ذکر نہیں۔ سر کے بال اُگنے کی بھی کوئی شرط نہیں۔ یہ صرف اس غرض سے ہے کہ عمرہ کے بعد حجامت کے ساتھ احرام سے نکلے مگر احرام سے نکلنے کے لیے اور بہت سی باتیں ہیں۔ خوشبو کا استعمال، بیوی کے پاس جانا احرام کے کپڑے اتار کر دوسرے کپڑے پہن لینا وغیرہ وغیرہ۔ پس احرام سے نکلنے کی خاطر دوسرا عمرہ اتنی دیر سے کرنا کہ بال اُگ آئیں اس کی کوئی وجہ نہیں۔ باقی شرائط میں حج عمرہ قریب قریب ہیں۔ (عبداللہ امرتسری روپڑی جامعہ قدس لاہور ۲۳شعبان ۱۳۸۰ہجری ۱۰ فروری ۱۹۶۱ئ، فتاویٰ اہلحدیث جلد۲ ص ۵۸۷)

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاوی علمائے حدیث

جلد 08 ص 53

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ