سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(126) تاب حجۃ اللہ بالغہ جلد دوم صفحہ 255 پر لکھا ہے کہ...الخ

  • 3692
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-07
  • مشاہدات : 588

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته 

کتاب حجۃ اللہ بالغہ جلد دوم صفحہ 255 پر لکھا ہے کہ تقلید حرام ہے۔اور مقلد مشرک ہے ۔مکمل جواب دیں (ایضاً)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اندھی تقلید شخصی تو واقعی مشرک بالنبوت بنا دیتی ہے۔کیونکہ ایک طرف ملہم من اللہ۔

1۔امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں۔اتركوا قولي بخبر الرسول (عقد الجید) رسول خداﷺ کی حدیث کے مقابلہ میں میرے قیاس کو چھوڑ دو۔اذا صح الحديث فهو مذهبي (رد المختار۔شامی)جب صحیح حدیث مل جائےبس وہی میرا مذہب ہے۔اس سے ثابت ہوا امام موصوف خود اہل حدیث تھے۔اذا صح الديث وكان خلاف المذهب عمل بالحديث ويكون ذلك مذهبه ولا يخرج مقلده عن كونه حنفيا با العمل به (شامی) اگر کوئی صحیح حدیث ہمارے مذہب کے الٹ آجائے تو اس وقت حدیث پر ہی عمل کرنا چاہیے۔اور یہی اس مقلد کا مذہب ہوگا۔(یعنی وہ اہل حدیث ہوگا)اور حدیث پر  عمل کر لینے سے وہ تقلید اور حنفیت سے وہ باہر نہیں سمجھا جائے گا۔

2صح عن الشافي انه نهي عن تقليده وغيره(عقد الجیدص45)امام شافعی ؒسے صحیح طور پرثاتب ہوچکا ہے۔کہ انہوں نےاپنی تقلید اور دوسروں  کی سب کی تقلید سے منع کیاہے۔

3۔امام احمد بن حنبل ؒ فرماتے ہیں۔لا تقلد في ولا تقلدن ما لكا ولا الاوزاعي ولا انخعي ولا غيرهم (عقد الجید ص98)میری تقلید مت کرو۔نہ امام مالک ۔نہ اوزاعی کی۔نخعی۔اور نہ کسی اور امام کی ہر گز ہرگز تقلید کرو۔''

4۔امام مالک ؒ کا ارشاد ہے۔قال مالك كلامه مردود عليه الا رسو ل الله صلي الله عليه وسلم (عقد الجید) حضورﷺ کے کلام کے سوا  دیگر تمام قیاس درانے انہی کے سر پھینگ دیئے جایئں گے۔(اخبار اہل حدیث سوہدرہ جلد نمبر 13 شمارہ 7)

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 11 ص 437-438

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ