سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(109) برہنہ سر ہوکر نماز پڑھنا درست ہے۔یا نہیں؟

  • 3676
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-07
  • مشاہدات : 587

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته 

بخدمت علمائے فضیلت شعار گزارش ہے کہ جواب مسئلہ ہذا سے ممتاز فرمادیں۔اگر کوئی بات بلا دریافت حال ایسے شخص کا مردی ہوجائے۔کہ اس شخص کے ہاں علانیہ شرک و بدعت ہوتا ہوا ور جلسے خلاف شریعت ہونے ہوں تو کیا بعد معلوم ہوجانے حالات مندرجہ کے اس مرشد سے تعلقات مریدی منقطع کرلینے چاہیں کیونکہ شریعت کے خلا ف کرنا یا دوسروں کو کرتے دیکھنا طبعیت کو برا معلوم ہوتا ہے۔الحاصل اگر ایسے مرشد سے قطع تعلق اورسلسلہ آمد ورفت کا بند کیا جائے۔تو وہ شخص قابل مواخذہ تو نہیں ہوسکتا۔براہ کرام اس عاصی کو جواب باصواب سے سرفراز فرمادیں۔

2۔برہنہ سر ہوکر نماز پڑھنا درست ہے۔یا نہیں  جیسا کہ آجکل کے فقیر بوجہ ریا کے ننگے سرنماز پڑھا کرتے ہیں۔

3۔مسواک اگر گھستے گھستے چھوٹی ہوجائے۔اور قابل گرفت نہ رہے تو اس کو کیا کرناچاہیے اکثر لوگ کہا کرتے ہیں کہ اس کو زمین میں گاڑ دیناچاہیے کہ قیامت کے دن اس کا سایہ  اس شخص پر ہوگا یہ مسئلہ سچ ہے یا مصنوعی بینوا توجروا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

الجواب۔1۔اس صورت میں اس مرشد سے قطع تعلق کرنا ضروری ہے۔اور آمد ورفت کا سلسلہ بھی بند کرنا لازم ہے۔اور ایسے مرشد کی تابعداری شرعا ہرگز دوست نہیں جیسا کہ مشکواۃ  شریف میں ہے۔

عن1 ابن عمر قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم السمع والطاعة علي المرء المسلم فيهما احب وكره ما لم يومر بمعصية فاذا امر بمعصية فلاسمع ولا طاعة متفق عليه وعن علي قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم لا طاعة في معصية انما الطاعة في المعروف وعن النواس بن سمعان قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق رواه في شرح السنة

سب لوگوں پر عموماً اور علمائے حقانی پر خصوصا پر ضروری و لازم ہے۔ کہ عوام الناس کو ایسے مرشد سے ہاتھ روکیں ہاتھ سے روکیں اگر ہاتھ سے نہ روک سکیں تو زبان سے روکیں اگر زبان سے نہ روک سکیں تودل میں ضرور بیزار ہوں۔مگر یہ ضعف ایمان ہے جیسا کہ مسلم شریف میں ہے۔

عن 2 ابي سعيد الخدري عن رسول الله صلي الله عليه وسلم قال من راي منكم منكرا فليغيره بيده فان لم يستطع فبلسانه فان لم يستطع فبقلبه وذلك اضعب الانمان

سید محمد نزیر حسین فتاویٰ نزیر جلد نمبر1 ص 240

2۔بوجہ ریا برہنہ سر نماز پڑھنا درست نہیں کیونکہ ریا شرک میں داخل ہے۔

۔عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! مسلمان کا کام ہے۔سننا اوراطاعت کرنا۔خواہ اسے پسند ہو یا نہ پسند بشرط یہ یہ وہ  کام گناہ کا نہ ہو۔اور اگر اسے گناہ کا حکم دیا جائے۔تو نہ سننا ہے اور نہ اطاعت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کہتے ہیں۔کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا گناہ میں کسی کی اطاعت نہیں ہے۔اطاعت صرف اچھے کام میں ہے۔تو اس بن سمعان کہتے ہیں۔کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی فرمانبرداری نہیں ہے۔

2۔رسول اللہﷺ نے فرمایاجو کوئی برائی دیکھے تو اسے اپنی طاقت سےروکے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے۔اگر اتنا بھی نہ کر سکے تو دل سے اسے برا سمجھے اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔

جیسا کہ مشکواۃ  میں ہے۔

عن محمود بن لبيدان النبي  صلي الله عليه وسلم قال ان اخوف ما اخاف عليكم الشرك الا صغر قالوايا رسو ل الله وما اشرك الا صغر قال الريا رواه احمد

ہاں اگر بلا ریا برہنہ نماز پڑھے تو جائز ہے۔جیسا کہ بخاری میں ہے۔

عن ابي هريره قال قال رسو ل الله صلي الله عليه وسلم لا يصلي احدكم في الثواب الواحد ليس علي عاتقه منه شئ

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز میں سرڈھانپنا ضروری نہیں۔ہاں یہ ایک مسنون امر ہے۔ اگر کرے تو اچھا نہ کرے تو گناہ گار نہیں اللہ پاک نے فرمایا!۔

يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ

اس آیت پاک سے ثابت ہوا کہ ٹوپی و عمامہ سے نماز  پڑھنا اولیٰ ہے کیونکہ لباس سے زینت ہے اگر عمالہ یا ٹوپی رہتے ہوئے  تکا سلاً برہنہ نماز پڑھے تو مکروہ ہے۔اور اگر بوجہ عاجزی و انکساری برہنہ نماز پڑھے تو بلاشبہ جائز ہے۔جیسا کہ عالم گیریہ میں ہے۔

يكرخ الصلوة حاسرا راسه اذا كان يجد العمامة وقد فعل ذلكك تكا سلا وتها ونا ولا باس به اذا فعله تذللا وخشوعا بل هو حسن كذافي الذخيرة

3۔یہ مسئلہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔بلکہ محض مصنوعی ہے واللہ اعلم بالصواب ۔حررہ حمید الرحمٰن عفی عنہ سید محمد نزیر حسین فتاویٰ نزیریہ جلد نمبر 1 ص240

3۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا مجھے سب سے زیادہ خوف تمہارے لئے چھوٹے شرک کا ہے۔لوگوں نے پوچھا چھوٹا شرک کیا ہے فرمایا دکھلاوا۔4۔رسول اللہﷺ نے فرمایا کوئی آدمی ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے۔کہ اس کے کندھے پر اس کا کوئی حصہ نہ ہو۔1۔اے بنی آدم مسجدوں میں جاتے وقت اپنی زیب زینت کیا کرو۔2۔اگر کوئی  آدمی محض سستی کی وجہ سے پگڑی ہوتے ہوئے ننگے سر نماز پڑھے تو مکروہ ہے  اور اگر خشوع و ذلت اور  انکساری کی بنا پر ننگے سر پڑھے تو یہ بہتر ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 11 ص 383-385

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ