سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(44) کھجور کا کھٹا رس اور تاڑ کا میٹھا اور کھٹا رس

  • 3143
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-01
  • مشاہدات : 1875

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کھجور کا کھٹا رس اور تاڑ کا میٹھا اور کھٹا رس جس پینے سے آدمی مدہوش ہوجاتاہے۔اوربرے بھلے میں تمیز نہیں رہتی۔اس کو ثمر کہاجائے گا اسکا پینا حرام ہے یا نہیں۔بصورت حرام اس کا پینے والا بیچنے والا۔رس نکالنے کیلئے درخت اجارہ پر دینے والے کا گناہ برابر ہے یا مختلف اور شریعت میں ان کے حدود کیا ہیں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

تاڑ کے رس میں صبح کے وقت نشہ نہیں ہوتا ۔ا سلئے اس کا پیناجائز ہے۔جس وقت نشہ آور ہوجائے تو بحکم کل مسکر حرام۔اس کا پینا ناجائز ہے۔تاڑ کے درخت کی مطق بیع جائز ہے۔ کیونکہ بذاة مسکر نہیں

(اہلدیث امرتسر۔١٢ جنوری سنہ١٩٤٠ئ)

(فتاویٰ ثنا ئیہ۔جلد ثانی صفحہ ٤٣٢(

 

تعاقب

اس سوال۔نمبر١٠١ کا جو آپ نے فرمایا ہے کہ صبح جب تاڑی اُتارتے ہیں۔اس وقت نشہ نہیں ہوتا۔یہ تجربہ آپ کو کیسے ہوا کہ صبح کو تاڑی اُتارتے وقت اس میں نشہ نہیں ہوتا۔صوبہ بہار میں علی الصباح تاڑی اُتارتے ہیں ۔اور پینے والے اسی وقت پینا شروع کر دیتے ہیں۔اوران میںنشہ بھی ہوتا ہے۔اس فتویٰ کوسن کر عام جہلا ء خوشی منا رہے ہیں کہ جب صبح کو تاڑی پینا جائز ہے تو اب ہم پیا کریں گے۔مہربانی کرکے تحقیق کر کے اس فتویٰ کو دوبارہ اہل حدیث اخبار میں شائع کریں۔

)راقم کم ترین ماسٹر قطب الدین احمد از بھدیسر خریدار ص ١١٤٦٩(

جواب۔ہم نے صبح بہار میں خود دریافت کیاتو ہمیں بتایاگیاکہ تاڑی میں صبح  سویرے نشہ نہیں ہوتی۔اب جو آپ نے اس کی بابت لکھا ہے تو صحیح فتویٰ ہی ہوگا۔کہ تاڑی ہر حال میں حرام ہے۔مزیدتحقیق کیلئے مولوی عبد الخبیر کو تکلیف دیتا ہوں۔کہ ٹھیک تحقیق سے اطلاع فرمائیں۔سوال ۔قابل غور اتنا ہے کہ تاڑی نیچوڑنے میں نشہ آور ہوجاتی ہے۔یاسورج چڑھے اس میں نشہ پیدا ہوتا ہے۔

(١٢ مارچ سنہ١٩٣٦ئ(

 

تاڑی کی تحقیق

جناب مولانا صاحب ام بعد!آپ نے کھجور کی مزید تحقیق کے متعلق جناب مولوی عبدالخبیر صاحب کو تکلیف دی ہے۔مجھ کو جہاں تک تحقیق ہے لکھتا ہوں۔بنگال میں خاص طور پر ضلع راجشاہی ضلع جسرو اور ضلع ندیر میں کثرت سے تاڑی ہوتی ہے۔ضلع جسر میں لوگوں کی زبانی سنا ہے۔کہ جس کے مکان یا زمین میں ایک سو درخت کھجور کے نا ہوں اس کے مکان میں کوئی شادی نہیں کرتا ۔گویا کھجوروں کے درخت ان کی جائیداد  ہے۔ماسٹر قطب الدین نے جو لکھاہے۔کہ صبح کی تاڑی میں یقینا نشہ ہوتا ہے۔ یہ کہنا ماسٹر صاحب کا غلط ہے۔میں نے بخوبی تجربہ کیا ہے۔کہ صبح سویرے تاڑی نشہ آور نہیں ہوتی۔دن کے دس بجے تک بہت عمدہ رہتی ہے۔اگر اسے دھوپ میں دو یاچار گھنٹے رکھا جائے۔تو البتہ نشہ آور ہو جاتی ہے۔میں خاص  کر کے اس (شیرہ) کو جسے آپ لوگ تاڑی کہتے ہیں۔پینے کیلئے تاڑی کے موسم میں ضلع راجشاہی مرشد آباد جاتاہوں اور دو ماہ وہاں رہتاہوں۔کسی قسم کی نشہ آوری نہیں۔

(مولوی محمد عبد الرحیم موضع ایموہا۔ڈاک خانہ راج گائوں بیر بھوم ١٠ اپریل سن١٩٤٦ئ)

 

تاڑی کی تشریح

اہل حدیث کے کسی رسالے میں تاڑی کو دو قسم میں لکھا گیا ہے۔ایک بے نشہ حلال دوسری بانشہ ھرام۔اس کی مذید تحقیق تاڑی والے علاقہ سے دریافت کی تھی جے جواب میں مولنا عبد الجلیل صاحب سے مرودی کا خط آیا ہے۔جودرج زیل ہے پرنہ اہل حدیث  میں تاڑی کے ما حصل پینے پر استسار ہمارے علمائے علاقے گجرات میں درخت تاڑ اور درخت خرماں ان دونوں سے ایک قسم کاعرق برآمد ہوتا ہے۔جو شربت سے بھی زیادہ شیریں ہوتا ہے۔اس کو حفاظت سے دن بھر رکھیے۔بالکل نشہ نہیں آتا۔اس کے نکالنے کا طریقہ یہ ہے تاڑ یا کھجور کے درخت کو چھید کر شام کو ٹھنڈے پہر ایک برتن مٹی کا باند ھ دیتے ہیں۔اس درخت سے قدرت نے ایک وقت رکھا ہے۔اس وقت اس میں وہ عرق اس طرح ٹپکتا ہے۔جس طرح شیر دار جانور کا دودھ تھن میں بھر کر ٹپکنے لگتا ہے۔فرق اتنا ہے کہ دودھ نکالنا پڑتا ہے اور بہ قدرتی طور پر اتر پڑتا ہے اُسے علی الصباح اتارا جاتا ہے۔یہ سرداور شیریں ہوتاہے۔ اسے ہم لوگ تیرا کہتے ہیں۔اس میں نشہ نہیں ہوتا۔خواہ دن کو نکلے یا رات کو کوئی تعلق نہیں البتہ جس روز برتن باندھا جاتا ہے۔اس کیلئے اگر شب کو ابر ہوجائے تو وہ نیرا پھٹ جاتا ہے۔رنگ بھورا ہوجاتاہے نرش آجاتی ہے۔اس میں نشہ ہو جاتا ہے۔لیکن وہ نیرا سرد صاف شیریں اس میں بذاة نشہ نہیں ہوتا۔بلکہ اس کو دھوپ میں رکھاجاوے۔یا آگ  پر تو اس میں پر سے جوش آجاتا ہے۔اور نشہ لاتا ہے۔جس درخت سے نیرا اُتارا جاتا ہے۔اس زمانہ میں سیندھی نہیں اُترتی اور سیندھی کے زمانے میں یہ نہیں اُترتا۔تاہم لوگ اس سے خوب واقف ہیں۔اس کے حلال ہونے میں کسی قسم کاشبہ نہیں الا نشہ کے زمانے میں۔

(عبدل الجلیل)

دوسرے  صاحب پٹنہ سے لکھتے ہیں۔جنھوں نے اپنا نام نہیں لکھا ان کی تحریر یہ ہے۔جناب حضرت مولانا صاحب سلمہ الرحمٰن۔السلام و علیکم ورحمة اللہ وبرکاة۔میں نے اہل حدیث  اخبارمیں بابت تاڑی یہ مضمون پڑھا۔بعدہ اس پر تعاقب کیا اس پر آنجناب نے مولوی پٹنوی سے دریافت کیا واللہ اعلم مولناٰ موصوف نے کیاجواب دیا۔کمترین یہ حیثیت مسلمان ہونے کی وجہ سے تجربہ کی بنا پر تحریر کرتا ہوں۔کہ برتن صاف بعد غروب آفتاب درخت سے شاخ دھو کر باندھ دیں۔طلوع آفتاب سے پیشتر اُتار کر استعمال کریں۔اگر برتن غیر صاف یا گرمی پہنچے سے زرہ برابر جھاگ آجاوے۔تو بوجہ جھاگ نشہ آور خواہ تھوڑی یا زیادہ مقدار ہو جاوے گی۔

(اہل حدیث یکم مئی سن١٩٣٦ئ)

(فتاویٰ ثنائیہ جلد ٢۔صفحہ ٤٣٣۔٤٣٤)

تعاقب

ہمارے ہاں تازہ تاڑ بھی نشہ دیتا ہے۔آپ کے پنجاب میں ایسا تاڑ ہے۔جو نشہ نہ دے۔آپ نے اس کے جواز کا کیوں فتویٰ دیا۔؟

(راقم از مئو)

جواب۔پنجاب میں تاڑ نہیں دیکھا۔پٹنہ میں سنا تھا۔کہ تازہ میں نشہ ہوتا ہے۔مدار حرمت پر نشہ ہے۔لہذا جو تاڑ ایسا ہو کہ اس کے اور باسی دونوں میں نشہ ہوتا ہو۔ہر حال میں حرام ہے۔بحکم کل مسکر حرام

(فتاویٰ ثنائیہ۔جلد٢۔ص ٢٢٠)

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ