سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(31) اہل کتاب سے نکاح کی اجازت

  • 2863
  • تاریخ اشاعت : 2013-04-24
  • مشاہدات : 2211

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسلمان پاک جبکہ کفار نجس ہوتے ہیں، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلام میں اہل کتاب کفار سے نکاح کی اجازت ہو۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس امر سے اللہ تعالی بھی بخوبی آگاہ تھا لیکن اس نے پاکدامن اہل کتاب عورتوں کے ساتھ نکاح کو جائز قرار دیا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔:

’’ الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ وَلاَ مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ وَمَن يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ ‘‘

آج تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں، اور ان لوگوں کا ذبیحہ جنہیں کتاب دی گئی تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال ہے، اور پاک دامن مسلمان عورتیں اور ان لوگوں میں سے پاک دامن عورتیں جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی جب کہ تم انہیں ان کے مَہر ادا کر دو، (مگر شرط) یہ کہ تم (انہیں) قیدِ نکاح میں لانے والے بنو نہ کہ اِعلانیہ بدکاری کرنے والے اور نہ خفیہ آشنائی کرنے والے، اور جو شخص َحکامِ الٰہی پرایمان (لانے) سے انکار کرے تو اس کا سارا عمل برباد ہوگیا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔

دوسری جگہ فرمایا:

’’ وَلاَ تَنكِحُواْ الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَلَأَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ وَلاَ تُنكِحُواْ الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُواْ َلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ أُوْلَـئِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَاللّهُ يَدْعُوَ إِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِ وَيُبَيِّنُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ ‘‘

اور تم مشرک عورتوں کے ساتھ نکاح مت کرو جب تک وہ مسلمان نہ ہو جائیں، اور بیشک مسلمان لونڈی (آزاد) مشرک عورت سے بہتر ہے خواہ وہ تمہیں بھلی ہی لگے، اور (مسلمان عورتوں کا) مشرک مردوں سے بھی نکاح نہ کرو جب تک وہ مسلمان نہ ہو جائیں، اور یقیناً مشرک مرد سے مؤمن غلام بہتر ہے خواہ وہ تمہیں بھلا ہی لگے، وہ (کافر اور مشرک) دوزخ کی طرف بلاتے ہیں، اور اﷲ اپنے حکم سے جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے، اور اپنی آیتیں لوگوں کے لئے کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں

مندرجہ دوسری آیت کے مطابق مسلمان مردوں کا نکاح مشرک عورتوں سے اور مسلمان عورتوں کا نکاح مشرک مردوں سے ممنوع قرار دے دیا گیا جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہو جائیں ۔ جبکہ پہلی آیت کے مطابق صرف مردوں کو اہلِ کتاب عورتوں سے نکاح کی اجازت دی گئی بشرطیکہ وہ پاکدامن ہوں لیکن دوسری آیت والی شرط بہرصورت موجود رہے گی یعنی وہ مشرک نہ ہوں اور اگر تھیں تو نکاح سے قبل مسلمان ہو جائیں ۔

گویا کہ وہ کتابیہ عورت جو پاکدامن اور مشرکہ نہ ہو اس کے ساتھ مسلمان مرد نکاح کر سکتا ہے۔لیکن یادرہے کہ یہ اجازت صرف کتابی عورت کے ساتھ مخصوص ہے،کسی مسلمان عورت کو کسی کتابی مرد کے نکاح میں دینا ہر صورت میں ناجائز ہے۔

اب جس امر کی اللہ نے اجازت دی ہو ہم اس سے کیسے منع کر سکتے ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الطہارہ جلد 2

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ