سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(376) ولد الزنا بچہ کے کان میں اذان کا حکم

  • 2661
  • تاریخ اشاعت : 2013-03-08
  • مشاہدات : 1125

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ولد الزنا بچہ پیدا ہوا، اس کے کان میں اذان کہنا نیز اگر وہ مر جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا قانون شریعت میں جائز ہے یا نہیں؟

 

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ولد الزنا بچہ پیدا ہوا، اس کے کان میں اذان کہنا نیز اگر وہ مر جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا قانون شریعت میں جائز ہے یا نہیں؟


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قصور زانی اور زانیہ کا ہے۔ بچہ بے گناہ ہے اس لیے اس کے کان میں اذان اور تکبیر کہی جائے گی۔ مر جائے تو جنازہ پڑھایا جائے گا۔ قبور اہل اسلام میں دفن بھی کیا جائے گا۔ (حافظ عبد القادر روپڑی، تنظیم اہل حدیث لاہور جلد نمبر ۲۱ ش نمبر ۱۹)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 168۔169
محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ