سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(842) ’’اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہدایت دیتا ہے‘‘ کا مفہوم کیا ہے؟

  • 25957
  • تاریخ اشاعت : 2018-04-28
  • مشاہدات : 976

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 اللہ قرآن میں فرماتا ہے کہ ’’اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے ، یا اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت عطا فرماتا ہے۔‘‘  ایسا قرآن میں بہت سی جگہ ہے ، اس سے کیا مراد ہے؟(ایک سائل) (۱۴ جنوری ۱۹۹۴ء)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قرآنی آیات سے مقصود یہ ہے کہ لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں ۔ ایک وہ جن میں ضبط کا مادہ ہوتا ہے اور نفس پر کنٹرول کر سکتے ہیں۔ دوسرے وہ جو اپنے آپ کو آزاد سمجھتے ہیں اور کسی کا حکم اپنے اوپر لینے کے لیے تیار نہیں۔ ایسے لوگوں کو ہدایت نہیںہوتی بلکہ وہ انکار کرکے یا خواہشِ نفسانی کے تابع ہو کر حق سے دُور ہو جاتے ہیں اور اللہ کی طرف سے ایسے لوگوں کو توفیق نہیں ملتی۔ بلکہ اللہ تعالیٰ ناراض ہو کر ان کی باگ ڈور ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے۔ جس سے گمراہی کے گڑھے میں جاگرتے ہیں۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿فَأَمَّا الَّذينَ ءامَنوا فَزادَتهُم إيمـٰنًا وَهُم يَستَبشِرونَ ﴿١٢٤ وَأَمَّا الَّذينَ فى قُلوبِهِم مَرَضٌ فَزادَتهُم رِجسًا إِلىٰ رِجسِهِم وَماتوا وَهُم كـٰفِرونَ ﴿١٢٥﴾... سورة التوبة

’’سو جو ایمان لائے ہیں ان کا تو ایمان زیادہ کیا اور وہ خوش ہوتے ہیں اور جن کے دلوں میں مرض ہے ان کے حق میں خبث پر خبث زیادہ کیا اور وہ مرے بھی تو کافر کے کافر۔‘‘‘

نیز علامہ سعدی ’’تیسیر الکریم الرحمن فی تفسیر کلام المنان‘‘ میں فرماتے ہیں:

’ فاقتضت حکمته تعالیٰ اضلالهم لعمد صلحیتهم للهدی ۔ کما اقتضی فضله و حکمته هدایة من اتصف بالایمان و تحلی بالاعمال الصالحة ‘ (۶/۱)

’’یعنی اللہ کی حکمت کا تقاضا ہے کہ کفار میں ہدایت کی صلاحیت نہ ہونے کی بنا پر ان کو گمراہ کردیا گیا جس طرح کہ اس کے فضل و حکمت کا اقتضاء ہوا کہ ایمان سے متصف اور اعمالِ صالحہ کواپنانے والے کو ہدایت دے۔‘‘

     ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

جلد:3،متفرقات:صفحہ:571

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ