سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(260) بیوی کا دودھ پینے کا حکم

  • 2540
  • تاریخ اشاعت : 2013-02-18
  • مشاہدات : 5186

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا شوہراپنی بیوی کا دودھ پی سکتا ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

خاوند كے ليے بيوى سے كوئى بھى فائدہ اٹھانااور اس سے خوش طبعى كرنا جائز ہے، صرف دبر ميں دخول ( يعنى پاخانہ والى جگہ كا استعمال) اور حيض و نفاس كى حالت ميں بيوى سے جماع كرنا حرام ہے، اس كے علاوہ سب جائز ہے، خاوند جو چاہے كر سكتا ہے مثلاً بوس و كنار اور معانقہ اور چھونا اور اسے ديكھنا وغيرہ. حتىٰ كہ اگر وہ بيوى كے پستان سے دودھ پى لے تو يہ بھی مباح استمتاع ميں شامل ہوتا ہے، اور اس پر دودھ كے اثرانداز ہونے كا حکم نہیں لگایا جا سكتا كيونكہ بڑے شخص كى رضاعت حرمت ميں مؤثر نہيں ہے، بلكہ رضاعت تو دو برس كى عمر ميں مؤثر ہوتى ہے.

مستقل فتوىٰ كميٹى كے علماء كا كہنا ہے:

’’ يجوز للزوج أن يستمتع من زوجته بجميع جسدها ، ما عدا الدبر والجماع في الحيض والنفاس والإحرام للحج والعمرة حتى يتحلل التحلل الكامل ويجوز للزوج أن يمص ثدي زوجته ، ولا يقع تحريم بوصول اللبن إلى المعدة ‘‘ (فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 19 / 351 - 352 )

“خاوند كے ليے اپنى بيوى كے سارے جسم سے فائدہ حاصل كرنا اور اس سے كھيلنا جائز ہے، صرف دبر ( يعنى پاخانہ والى جگہ ) اور حيض و نفاس ميں جماع كرنا، اور حج و عمرہ كے احرام كى حالت ميں جماع كرنا حرام ہے، حلال ہونے كے بعد كر سكتا ہے " خاوند كے ليے بيوى كا پستان چوسنا جائز ہے، اس كے معدہ ميں دودھ جانے سے حرمت واقع نہيں ہو جائيگى "

اور شيخ محمد صالح العثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

’’ رضاع الكبير لا يؤثر ؛ لأن الرضاع المؤثر ما كان خمس رضعات فأكثر في الحولين قبل الفطام ، وأما رضاع الكبير فلا يؤثر ، وعلى هذا فلو قدِّر أن أحداً رضع من زوجته أو شرب من لبنها : فإنه لا يكون ابناً لها ‘‘ (فتاوى إسلامية " ( 3 / 338 )

" بڑے شخص كى رضاعت مؤثرنہيں؛ كيونكہ مؤثر رضاعت تو دودھ چھڑانے سے قبل دو برس كى عمر ميں پانچ يا اس سے زائد رضاعت دودھ پينا ہے، بڑے شخص كى رضاعت مؤثر نہيں ہو گى اس بنا پر اگر فرض كر ليا جائے كہ كوئى شخص اپنى بيوى كا دودھ پى لے يا اس كے پستان كو چوس لے تو وہ اس طرح اس كا بيٹا نہيں بن جائےگا "

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02

محدث فتویٰ


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ