سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(135) تدفین کے بعد کے ایام میں تعزیت کے وقت دعائے مغفرت کا مسنون طریقہ کیا ہے؟

  • 25250
  • تاریخ اشاعت : 2018-03-28
  • مشاہدات : 181

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مردہ بھائی کے لیے اس کی تدفین کے بعد کے ایام میں دعائے مغفرت کا مسنون طریقہ کیا ہے ؟ کیا اس کے لیے دعا کرتے وقت کسی وقت ہاتھ اٹھانے کا جواز ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بلاتعیین وقت اور مکان کے میت کے لیے ہر وقت مغفرت کی دعا ہو سکتی ہے ۔ قرآن میں ہے:

﴿رَبَّنَا اغفِر لَنا وَلِإِخو‌ٰنِنَا الَّذينَ سَبَقونا بِالإيمـٰنِ...﴿١٠﴾... سورة الحشر

’’اے پروردگار! ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں، گناہ معاف فرما۔‘‘

نیز میت کے لیے ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا جائز ہے۔ حدیث میں ہے:

’ فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْهِ فَقَالَ: اِغْفِرْ لِعُبَیْدٍ أَبِیْ عَامِرٍ . ثُمَّ قَالَ : اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ فَوْقَ کَثِیْرٍ مِّنْ خَلْقِكَ مِنَ النَّاسِ‘(صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب غزوة أوطاس،رقم: ۴۳۲۳)

’’یعنی نبیﷺ نے پانی منگوایا، پھر ہاتھ اٹھا کر دعا کی فرمایا: اے اللہ ! عبید ابوعامر کو معاف کردے۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے آپﷺ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی ، یعنی اس قدر ہاتھ بلند کیے۔ پھر فرمایا اے اللہ! قیامت کے دن اسے اپنی مخلوق میں سے بہت پر فائق فرما۔‘‘

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

جلد:3،کتاب الجنائز:صفحہ:175

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ