سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(112) قبر پر دعا کرنے کے حکم

  • 25227
  • تاریخ اشاعت : 2018-03-28
  • مشاہدات : 145

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میت کو دفنانے کے بعد قبر پر دعا کرنا کیا رسول اللہﷺ سے ثابت ہے ؟ بعض حضرات کہتے ہیں کہ قبر پر کھڑے ہو کر جو دعا کی جاتی ہے یہ نبی کریمﷺ سے ثابت نہیں۔ نیز سعودی عرب میں قبر پر کھڑے ہو کر ایسے دعا نہیں کی جاتی۔ (وَاللّٰہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ ۔) وضاحت فرما دیں کہ صحیح کیا ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

میت کو دفن کرنے کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا رسول اللہﷺسے ثابت ہے۔ ابوعوانہ نے اپنی ’’صحیح‘‘ میں حدیث بیان کی ہے:

’ فَلَمَا فَرَغَ مِن ْ دَفْنِهٖ اِسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ رَافِعًا یَدَیْهِ ‘ (بحواله فتح الباری:۱۴۴/۱۱)

’’یعنی رسول اللہﷺ جب عبداللہ ذی النجادین کو دفن کرکے فارغ ہوئے تو آپ نے قبلہ رُخ ہو کر ہاتھ اٹھا کر اس کے لیے دعائے مغفرت کی۔‘‘

سعودی عرب میں فتوے کی دائمی کمیٹی نے اپنے ایک فتویٰ میں کہا ہے کہ میت کو دفن کرنے کے بعدرسول اللہﷺ سے دعاء و استغفار ثابت ہے۔رسول اللہﷺ میت کے دفن سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہوکر فرمایا: اپنے بھائی کے لیے بخشش کی دعا اور ثابت قدمی کا سوال کرو ابھی ابھی اس سے سوال ہوگا۔(سنن ابی داؤد،بَابُ الِاسْتِغْفَارِ عِنْدَ الْقَبْرِ لِلْمَیِّتِ فِی وَقْتِ الِانْصِرَافِ،رقم۳۲۲۱) فتاویٰ اسلامیہ:(۳۰/۲)

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

جلد:3،کتاب الجنائز:صفحہ:165

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ