سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(186) نماز قصر

  • 2466
  • تاریخ اشاعت : 2013-02-16
  • مشاہدات : 642

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سوال : اگر کوئی مسافر کسی جگہ پڑاو ڈالے اور وہاں نماز کا وقت ہو جائے ظہر،عصر،مغرب یا عشاء اور وہ نماز کے شروع میں یعنی اللہ اکبر کہتے ہوئے ہی جماعت کے ساتھ مل جائے تو کیا وہ پوری نماز پڑھے گا یا دو رکعت کے بعد سلام پھیر کر صف سے نکل جائے گا۔؟اور اگر امام خود مسافرہی ہو تو کیا امام دو رکعت پڑھا کر سلام پھیر دے گا اورباقی مقتدی اپنی نماز مکمل کریں گے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر کوئی مسافر شخص کسی مقیم امام کے پیچھے نماز پڑھتا ہے تو اس کے لئیے امام کی مانند مکمل نماز پڑھنا ضروری ہے،دو رکعات پر سلام نہیں پھیرے گا،اگرچہ مسافر آخری دو رکعات میں ہی کیوں نہ ملا ہو،مسافر سلام کے بعد کھڑا ہو جائے گا اور باقی دو رکعات پوری کرے گا۔

اور اگر امام خود مسافر ہو تو امام دو رکعات پڑھا کر سلام پھیر دے گا ،جبکہ مقتدی اپنی باقی نماز مکمل کریں گے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ