سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(88) کیا فرات سے نکلنے والے سونے سے مراد عراق کا تیل ہے؟

  • 23458
  • تاریخ اشاعت : 2017-10-31
  • مشاہدات : 721

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

امریکہ عراق جنگ کے تناظر میں بعض لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ نکلے گا، جس کی وجہ سے بہت خونریزی ہو گی حتی کہ ہر سو میں سے ننانوے آدمی قتل ہو جائیں گے۔ کیا اس طرح کی کوئی حدیث ہے؟ کیا اس سے عراق کا تیل مراد لینا درست ہے جیسا کہ بعض لوگ مرادلیتے ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قیامت سے پہلے دریائے فرات سے اس کا پانی خشک ہونے کی وجہ سے سونے کا ایک خزانہ پہاڑ کی شکل میں ظاہر ہو گا جسے حاصل  کرنے کے لیے لوگوں میں لرائی ہو گی جس کی وجہ سے ننانوے فیصد لوگ موت کے گھاٹ اتر جائیں گے۔ وہی لوگ محفوظ رہیں گے جنہیں اس سونے کے پہاڑ سے کوئی دلچسپی نہیں ہو گی۔ یہ بات تو درست ہے مگر اس سونے کے پہار سے تیل مراد لینا درست نہیں کیونکہ اس سلسلے میں وارداحادیث نبویہ سے یہ بات غلط ثابت ہوتی ہے۔ ارشاد نبوی ہے:

(يوشك الفرات أن يحسر عن كنز من ذهب فمن حضره فلا يأخذ منه شيئاً)(بخاري، الفتن، خروج النار، ح: 7119، مسلم، الفتن، لا تقوم الساعة حتی یحسر الفرات عن جبل من ذھب، ح: 2894)

’’قریب ہے کہ دریائے فرات (خشک ہو کر) سونے کے خزانے کو ظاہر کر دے تو جو شخص اس وقت موجود ہو اُس میں سے کچھ نہ لے۔‘‘

ایک اور حدیث میں ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(لا تقوم الساعة حتى يَحِسر الفرات عن جبل من ذهب يقتتل الناس عليه، فيُقتل من كل مائة تسعة وتسعون، ويقول كل رجل منهم: لعلي أكون أنا الذي أنجو)

’’اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک کہ دریائے فرات خشک ہو کر اس سے سونے کا پہاڑ نہ نکل آئے، اس پر لوگ لڑیں گے، ہر سو میں سے ننانوے آدمی مارے جائیں گے، ان میں سے ہر ایک کا خیال ہو گا کہ شاید میں اسے حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤں۔‘‘

مذکورہ بالا احادیث میں مذکور سونے کے خزانے اور پہاڑ سے عراق کا تیل مراد لینا لوگوں کا تکلف ہے۔ کتاب و سنت کے واضح دلائل کی اس طرح تاویلات کرنے سے دین بازیچہ اطفال بن جائے گا اور اس کا حلیہ ہی بگڑ جائے گا، بعض لوگوں کو یہ جنون ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی نیا واقعہ رونما ہو تو اس پر فورا کوئی نہ کوئی حدیث چسپاں کر دیں، پھر جب اس طرح نہیں ہوتا تو اپنا سا منہ لے کر بیٹھ جاتے ہیں، نیز اس طرح احادیث میں تشکیک بھی پیدا ہوتی ہے۔ اگر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کا پہاڑ کہا ہے تو اس سے مراد سونے کا پہاڑ ہی ہے نہ کہ کچھ اور۔ مزید برآں عراق کا تیل دریا سے نہیں نکلتا۔

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ افکارِ اسلامی

قرآن اور تفسیر القرآن،صفحہ:234

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ