سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(45) مکمل قرآن کی تلاوت کتنے دنوں میں کی جائے؟

  • 23415
  • تاریخ اشاعت : 2017-10-30
  • مشاہدات : 82

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
قرآن مجید کی تلاوت مکمل کرنے کے لیے کم از کم کتنا وقت صرف کرنا چاہئے؟ کیا ایک رات یا ایک دن میں قرآن کریم کی تلاوت ختم کی جا سکتی ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قرآن مجید کی تلاوت مکمل کرنے کے لیے کم از کم کتنا وقت صرف کرنا چاہئے؟ کیا ایک رات یا ایک دن میں قرآن کریم کی تلاوت ختم کی جا سکتی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایک دن یا ایک رات میں سارا قرآن نہیں پڑھنا چاہئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی (عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ) سے فرمایا:

پر مہینے میں (پورا) قرآن پڑھو۔ انہوں نے کہا: اللہ کے نبی! میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا:

بیس دن میں قرآن (ایک بار) پڑھ لو۔ انہوں نے کہا: اللہ کے نبی! میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا:

دس دنوں میں پڑھ لو۔ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا:

(فاقراه فى سبع ولا تزد على ذلك فان لزوجك عليك حقا و لزورك عليك حقا ولجسدك عليك حقا)

(مسلم، الصیام، النھی عن صوم الدھر، ح: 1159)

"سات روز میں پڑھو، اس سے زیادہ نہ کرو۔ اس لیے کہ تم پر تمہاری بیوی کا حق بھی ہے، تم پر تمہارے ملاقاتیوں کا بھی حق ہے اور تم پر تمہارے جسم کا بھی حق ہے۔"

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اشخاص کے احوال کے پیش نظر فرامین جاری کیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو سات دن، کسی کو پانچ دن اور کسی کو تین دن سے کم وقت میں قرآن پڑھنے کی اجازت دی، مگر کسی بھی صورت میں تین دن سے کم وقت میں قرآن کی تلاوت مکمل نہیں کرنی چاہئے۔ ایک دن یا رات میں مکمل قرآن کی تلاوت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت نہیں۔ چنانچہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں: میں نہیں جانتی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح تک کبھی پورا قرآن پڑھا ہو۔

(نسائی، قیام اللیل، الاختلاف علی عائشۃ فی احیاء اللیل، ح: 1642، ابن ماجہ، اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا، فم کم یستحب یختم القران، ح: 1348)

تین دن سے کم وقت میں مکمل قرآن کی تلاوت سے قرآن میں تدبر اور تفکر ممکن نہیں۔ چنانچہ سنن ابوداؤد میں ہے، عبداللہ بن عمرو نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کتنے دنوں میں قرآن پڑھوں؟ آپ نے فرمایا:

(فى شهر) "ایک مہینے میں۔" انہوں نے کہا: میں اس سے زیادہ (روزے رکھنے کی) طاقت رکھتا ہوں۔ ابو موسیٰ (ابن مثنیٰ) نے یہ جملہ بار بار دہرایا، یعنی انہوں نے اس مدت میں کمی چاہی، حتیٰ کہ آپ نے فرمایا: (اقرا فى سبع) "سات دنوں میں پڑھ لو۔" انہوں نے کہا: میں اس سے زیادہ قوت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: (لا يفقه من قراه فى اقل من ثلاث) "جس نے تین دن سے کم میں قرآن پڑھا اس نے اسے سمجھا ہی نہیں۔"

(قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله، فی کم یقرا القرآن، ح: 1390، ترمذی، القراءات، ما جاء ان القرآن انزل علی سبعۃ احرف، ح: 2949، ابن ماجہ، اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا، فی کم یستحب یختم القرآن، ح: 1347)

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ افکارِ اسلامی

قرآن اور تفسیر القرآن،صفحہ:141

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ