سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(277) ولی کے بغیر اور خفیہ نکاح کا حکم

  • 23042
  • تاریخ اشاعت : 2017-10-01
  • مشاہدات : 376

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص کی ایک بیوہ لڑکی بالغہ اور ذی جمال ہے جس کی نسبت دو تین جگہوں سے آتی رہی اور اس کے والد بھی حسب خواہ اپنے نکاح کرانے کا ارادہ رکھتے تھے ناگاہ اس نسبتی کا ایک شخص اس پر عاشق ہوگیا اور کٹینوں (نائکہ) کے ذریعے سے بلوا کر اس سے نکاح کرنے کے لیے اپنی بی بی کو بلا قصور طلاق دے دیا،بعدہ خفیہ طور پر نکلوا کر غیر بستی کے دو شخصوں کے سامنے نکاح کیا،یہاں تک کہ اس بستی کے کسی شخص کو نہ اس کے ولی کو اس کی خبر ہے اور اس کے ولی لوگ بیزار وناراض ہیں  ۔ایسی حالت میں ایسا نکاح صحیح ہوا یا نہیں۔(المستفتی :محمد نزول  الحق آرہ۔خیراتی مسجد )


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مذکورہ بالا نکاح دو وجہوں سے صحیح نہیں ہے:

1۔خفیہ طور پر کیاگیا،حالانکہ اس کی ممانعت ہے اور نکاح میں اعلان کا حکم ہے۔

﴿وَلا مُتَّخِذ‌ٰتِ أَخدانٍ...﴿٢٥﴾... سورة المائدة

"اور نہ چھپی آشنائیں بنانے والے"

شاہ ولی اللہ صاحب مصفی ترجمہ موطا میں فرماتے ہیں:"مترجم می گوید قول خدائے تعالیٰ( مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ) دلالت می کند بتحریم نکاح سر"(مصفی:2/3) مترجم کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا فرمان(مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ)خفیہ نکاح کے حرام ہونے پر دلالت کرتا ہے"

"ولقوله عليه السلام ((اعلنوا النكاح))"[1]

رواہ احمد وصححہ الحاکم عن عامر بن عبداللہ بن الزبیر عن ابیہ بلوغ المرام کتاب النکاح)

نیز(خفیہ نکاح) آپ صلی اللہ علیہ وسلم   کے اس فرمان کی وجہ سے(بھی جائز نہیں ہے) :نکاح کا ا علان کرو۔

2۔اس لیے کہ بغیر اجازت ولی کے محض عورت کی خواہش کے موافق کیا گیا،حالانکہ ولی کی اجازت شرط ہے اور عورت بغیر اجازت ولی کے نکاح کی مختار نہیں:

لقوله عليه السلام((لا نكاح الا بولي)[2]

آپ صلی اللہ علیہ وسلم   کے اس فرمان کی وجہ سے ولی(کی اجازت) کے بغیر نکاح نہیں ہوتا)

"وقال: عن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " أيما امرأة نكحت بغير إذن وليها فنكاحها باطل فنكاحها باطل ، فنكاحها باطل ، فإن دخل بها فلها المهر بما استحل من فرجها "[3]

وہ عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا   سے روایت کرتے ہیں کہ بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا:جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرلے تو اس کا نکاح باطل ہے ،اس کا نکاح باطل ہے،اس کا نکاح باطل ہے۔۔۔۔۔)

"وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :"لا تزوج المرأة المرأة ولا تزوج المرأة نفسها فإن الزانية هي التي تزوج نفسها"[4](رواه  ابن ماجه والدارقطنی)

"ابوہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا:کوئی عورت کسی عورت کا نکاح نہ کرے،نہ عورت خود اپنا نکاح کرے،پس بلاشبہ بدکار عورت ہی اپنا نکاح خود کرتی ہے"


[1] ۔مسند احمد(4/5) بلوغ المرام(988) صحیح الجامع رقم الحدیث(1952)

[2] ۔سنن ابی داود رقم الحدیث(2085) سنن الترمذی رقم الحدیث(1101)سنن ابن ماجہ رقم الحدیث(1880)

[3] ۔سنن ابی داود رقم الحدیث(2083) سنن ترمذی  رقم الحدیث(1102)

[4] ۔سنن ابن ماجہ رقم الحدیث(1882)

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

کتاب النکاح ،صفحہ:482

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ