سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(58) ولادت سے پانچ روز قبل آنے والے خون کا حکم

  • 22124
  • تاریخ اشاعت : 2017-08-27
  • مشاہدات : 575

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 ایک عورت کو ماہ رمضان المبارک میں وضع حمل سے پانچ روز قبل ہی خون آنا شروع ہو گیا، یہ خون حیض کا ہو گا یا نفاس کا؟ اس دوران عورت پر کیا کچھ واجب ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب صورت حال ایسی ہو کہ عورت نے وضع حمل سے پانچ روز قبل خون دیکھا اور وضع حمل کی کوئی علامت وغیرہ (مثلا رحم کا منہ کھلنا) نہیں دیکھی تو صحیح مذہب کی رو سے یہ حیض یا نفاس کا خون نہیں بلکہ خون فاسد ہے۔ بناء بریں وہ نماز اور روزے کو نہیں چھوڑ سکتی، بلکہ اسے نماز پڑھنا اور رمضان کے روزے رکھنا ہوں گے، اور اگر خون کے ساتھ وضع حمل کے وقت کے قرب کی کوئی علامت ظاہر ہو گئی تو ایسا خون نفاس (وضع حمل) کا خون ہو گا، جس کی وجہ سے وہ نماز اور روزے وغیرہ کی ادائیگی چھوڑ دے گی اور ولادت کے بعد پاک ہونے پر روزوں کی قضاء دے گی جبکہ نماز کی قضا نہیں دے گی۔ ۔۔۔دارالافتاء کمیٹی۔۔۔

ھٰذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ برائے خواتین

طہارت،صفحہ:94

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ