سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(56) نفاس والی عورت کے چند احکام

  • 22122
  • تاریخ اشاعت : 2017-08-27
  • مشاہدات : 624

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر نفاس والی عورتیں چالیس دن سے پہلے پاک ہو جائیں تو کیا وہ نماز پڑھیں اور روزے رکھیں؟ اور اگر غسل کے بعد پھر حیض آ جائے تو کیا وہ روزہ افطار کر دے اور جب دوبارہ پاک ہو جائے تو کیا وہ نماز ادا کرے گی اور روزہ رکھے گی یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب نفاس والی عورتیں چالیس دن سے قبل پاک ہو جائیں تو ان پر غسل کرنا، نماز ادا کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا واجب ہو جائے گا، نیز وہ خاوندوں کے  لیے  بھی حلال ہو جائیں گی۔ اگر چالیس دنوں کے اندر خون دوبارہ آنا شروع ہو جائے تو اس پر نماز اور روزہ چھوڑنا واجب ہو گا اور علماء کے صحیح ترین قول کی رو سے خاوند پر بھی حرام ہو جائے گی۔ ایسی عورت پاک ہونے یا چالیس دن کی مدت پوری کرنے تک نفاس والی عورت کا حکم رکھتی ہے۔ اگر وہ چالیس دن سے پہلے یا ان کے پورا ہو جانے پر پاک ہو جائے تو غسل کر کے نماز ادا کرے گی اور روزے رکھے گی۔ نیز خاوند کے  لیے  حلال ہو جائے گی، اور اگر چالیس دن کے بعد بھی خون جاری رہتا ہے تو ایسا خون فاسد ہو گا، اس کے  لیے  وہ نماز، روزہ نہیں چھوڑ سکتی، بلکہ اس پر نماز پڑھنا اور روزے رکھنا فرض ہو گا۔ وہ مستحاضہ عورت کی طرح خاوند پر حلال ہو گی۔ وہ استنجاء کر کے روئی وغیرہ جیسی کوئی چیز استعمال کرے جس سے خون کی مقدار کم ہو سکے وہ ہر نماز کے  لیے  وضو کر کے نماز پڑھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحاضہ عورت کو یہی حکم دیا تھا۔ ہاں اگر اسے حیض آ جائے تو اس کے  لیے  وہ نماز، روزہ چھوڑ دے اور حیض سے پاک ہونے تک وہ خاوند کے  لیے  بھی حرام رہے گی۔ وبالله التوفيق     ۔۔۔شیخ ابن باز۔۔۔

ھٰذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ برائے خواتین

طہارت،صفحہ:92

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ