سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(533) غسل جنابت کا صحیح طریقہ

  • 2201
  • تاریخ اشاعت : 2012-11-12
  • مشاہدات : 3077

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

غسل جنابت کا صحیح طریقہ کیا ہے ؟کیا وضو کی طرح وضو کرنا جس میں سر کا مسح اور پاؤں پہلے دھونا بھی آتا ہے۔یا وضو جس میں سر کا مسح نہیں کرنا چاہیے اور پاؤں بعد میں دھونے چاہیے؟یا یہ دونوں طریقے صحیح ہیں اور دونوں پر عمل کر کے ثواب ملے گا اور غسل ہو جائے گا؟مجھے اس کا مطمئن جواب چاہیے میں اس مسئلے کی تحقیق جاننا چاہتا ہوں مجھے آج تک صحیح جواب نہیں مل سکا۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

غسل جنابت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے آپ استنجا کرتے ہوئے اپنی شرمگاہ کو اچھی طرح سےدھوئیں، پھر نماز والا مکمل وضوء کریں،جس میں سر کا مسح بھی کریں اور پاؤں بھی دھوئیں، اس کےبعد اپنے سرپر تین چلو پانی ڈالیں اور بالوں کو اچھی طرح رگڑیں،پھر آپ مکمل جسم پر پانی ڈال لیں،اس طرح آپ کا غسل مکمل ہو جائے گا۔

اگر آپ ایسی جگہ غسل کر رہے ہیں جہاں پانی کے چھینٹے پڑنے کا خدشہ ہو تواحتیاطاً پاؤں نہ دھوئیں،اور غسل مکمل کر لینے کے بعد آخر میں پاؤں دھولیں۔یہ آخر میں پاؤں دھونے کی وجہ چھینٹوں کا پڑھنا ہے ،ورنہ آپ اپنے وضوء کے ساتھ ہی دھوئیں گے۔ باقی مسح نہ کرنے والی بات بے دلیل ہے ،ایسا کوئی طریقہ ثابت نہیں ہے جس میں مسح نہ کیا جائے،آپ وضوء کرتے وقت مسح بھی ساتھ ہی کریں گے۔

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ