سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(166) حالتِ احرام میں عورت کو حیض یا نفاس آنا

  • 21671
  • تاریخ اشاعت : 2017-07-23
  • مشاہدات : 212

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر عورت کو حالت احرام میں حیض یا نفاس آجائے تو کیا وہ طواف کر سکتی ہے؟ اگر نہیں تو اسے کیا کرنا ہوگا، اور کیا اس کے لیے طواف وداع ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حیض یا نفاس والی عورت طہارت کا انتظار کرے گی، پاک ہونے کے بعد طواف و سعی کرے گی اور بال کٹوا کر عمرہ پورا کرلے گی،اوراگر عمرہ کے بعد یا آٹھویں ذی الحجہ کو حج کا احرام باندھنے کے بعد حیض یا نفاس آجائے تو حج کے تمام اعمال ادا کرے گی۔ وقوف عرفہ و مزدلفہ، کنکریاں  مارنا تلبیہ و ذکر الٰہی سب کچھ کرے گی اور پاک ہو جانے کے بعد حج کا طواف اور سعی کرے گی۔ اور اگر حج کے طواف اور سعی کے بعد حیض یا نفاس آئے تو طواف وداع ساقط ہو جائے گا اس لیے کہ حائضہ اور نفاس والی عورت پر طواف وداع نہیں ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

ارکانِ اسلام سے متعلق اہم فتاویٰ

صفحہ:253

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ