سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(56) انشورنش سے متعلق کچھ استفسارات کے جوابات

  • 20872
  • تاریخ اشاعت : 2017-05-24
  • مشاہدات : 1278

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بندہ سے اسٹیٹ لائف انشورنس کار پوزیشن آف پاکستان (بیمہ زندگی)والوں کا واسطہ پڑا ۔ بہر کیف انھوں نے بیمہ زندگی کے بارے مجھے کئی دلائل دئیے ۔

1۔یہ کرانے والا کچھ رقم دیتا ہے اور مقررہ مدت کے درمیان فوت ہو جائے تو مقررہ رقم ورثاء کو ملتی ہے۔ پسماندگان میت کی فائدہ رسانی مقصود ہے جو نیک نیت ہے۔سود خوری اور سودی خورانی مقصود نہیں ہوتی ۔ حدیث شریف میں ہے کہ اعمال کا دارومدار نیت پر ہے چونکہ اللہ تعالیٰ مفسد اور مصلح کو خوب جانتا ہے۔

2۔چونکہ میت کی لگائی گئی رقم سے ادارہ کاروبار کرتا ہے اور کاروبار کامنافع یا بونس بیمہ دار کو ملتا ہے جیسے ایک آدمی کچھ رقم کسی کو دے دیتا ہے اور کاروبار میں حصہ ڈال دیتا ہے اور مناسب منافع لیتا ہے

3۔چونکہ رقم اقساط کی صورت میں دے کر مع نفع بعد مدت گزرنے پر وصول کر لی جاتی ہے۔

4۔موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے بیمہ انسان کی ضرورت کا ذریعہ بھی ہو سکتا ہے۔

5۔بچت کر کے رقم بچوں کے لیے مستقبل کے حالات کے لیے رکھی جاتی ہے۔اور اسی رقم کو ادارہ استعمال کرکے منافع کی صورت میں لوٹا دیتا ہے جس کی شرح فکس (لازم ) نہیں ہے۔

6۔ چونکہ بینکاری نظام میں نفع و نقصان کی شراکت سے کاروبار ہو رہا ہے جبکہ اس ادارے نے بھی کاروبار کر رکھا ہے مگر بینک کی شرح فیصد فکس ہےجبکہ اسٹیٹ لائف انشورنس(بیمہ زندگی)کے کاروبار میں شرح فیصد نہیں ہے۔

7۔یہ جواء نہیں ہے نہ پرائز بانڈ سسٹم ہے نہ لاٹری ہے۔

یہ سب دلائل محکمہ انشورنس کی جانب سے دئیے گئے بیمہ زندگی کا کاروبار جائز نہ ہونے کی صورت میں عقلی اور فقہی روسے مفصل تحریر فرما کر جواب سے مستفیض فرمائیں۔

نوٹ : علم سے استفادہ کرنا نوع انسان کا حق ہے۔ کائنات کے مادی وسائل کو استعمال کرنا بھی اس کا حق ہے بیمہ کی بنیاد ریاضی پر ہے کیا اس سے صرف ترقی یافتہ ممالک ہی فائدہ لیں یا ہم بھی اس کارو بار سے فائدہ لے لیں۔(اطہر منیراوکاڑہ)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

از عبد المنان نور پوری بطرف ۔جناب اطہر منیر صاحب حفظہمااللہ العلیم الخبیر وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبر کاتہ۔ امابعد!

آپ کا مکتوب موصول ہوا۔ جناب کے نقل کردہ دلائل کے جواب ترتیب وار مندرجہ ذیل ہیں بتوفیق اللہ تبارک وتعالیٰ و عونہ۔

1۔کسی عمل کے حق و درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ کتاب و سنت کے موافق ہو۔ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی اطاعت و فرمانبرداری پر مشتمل ہو۔ قرآن مجید میں ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَطيعُوا اللَّهَ وَأَطيعُوا الرَّسولَ وَلا تُبطِلوا أَعمـٰلَكُم ﴿٣٣﴾... سورة محمد

"اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کا کہا مانو اور اپنے اعمال کو غارت نہ کرو"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے:

((مَنْ عَمِلَ عَمَلاً ليسَ عليه أمرُنا هذا فهو رَدٌّ)). (صحیح مسلم)

صرف نیت کے نیک ہونے سے عمل درست نہیں بنتا مثلاً کوئی آدمی کسی بیوہ کی جنسی خواہش پوری کرنے کی نیت سے اس کے مطالبہ پر اس کے ساتھ وطی کرتا ہے تو اس نیک نیتی کی بنا پر اس کی یہ وطی حق درست نہیں بنے گی بلکہ زنا کی زنا ہی رہے گی۔ بالکل اسی طرح بیمہ کی صورت میں "پسماندگان میت کی فائدہ رسانی مقصود ہونے نیک نیت ہونے اور سودخوری و سود خورانی مقصود نہ ہونے سے سود حق درست نہیں بنے گا۔ بلکہ حرام ہی رہے گا۔قرآن مجید میں ہے:"وَحَرَّمَ الرِّبَا" ۚاللہ تعالیٰ نے سود کو حرام قرار دیا ہے۔ حدیث میں ہے ۔

"دِرْهَمٌ رِبًا يَأْكُلُهُ الرَّجُلُ وَهُوَ يَعْلَمُ، أَشَدُّ مِنْ سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ زَنْيَةً" (مشکوۃ باب الریا)

حدیث( إنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ)کے آخری حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ہجرت کا ذکر فرمایاہے۔جس سے پتہ چلتا ہے کہ"اعمال کا دارومدار نیت پر ہے"میں مراد اعمال صالحہ ہیں اور معلوم ہے کہ سود اعمال صالحہ میں شامل نہیں۔ اعمال سیہ میں شامل ہے لہٰذا نیک نیتی والی بات اس اثناء میں پیش کرنا بے محل ہے۔ اللہ تعالیٰ واقعی مفسد اور مصلح کو خوب جانتا ہے اسی لیے فرمادیا وَحَرَّمَ الرِّبَا" نیز فرمایا۔ يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَایا مزید فرمایا:

﴿وَذَروا ما بَقِىَ مِنَ الرِّبو‌ٰا۟ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ ﴿٢٧٨ فَإِن لَم تَفعَلوا فَأذَنوا بِحَربٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسولِهِ ...﴿٢٧٩﴾... سورةالبقرة

تو اللہ تعالیٰ نے بتادیا کہ سود نہ چھوڑنے والے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ جنگ و لڑائی کر رہے ہیں اور واضح رہے کہ ایسے لوگ مفسد ہی ہو سکتے ہیں مصلح نہیں ہو سکتے۔ نیت خواہ کتنی ہی نیک بنالیں ۔

پھر بیمہ کمپنیوں کے بیمہ کرانے والوں کے مرنے کے بعد ان کے وارثوں کو کچھ نہ کچھ دینے سے ان کی"پسماندگان میت کی فائدہ رسانی مقصود ہے۔ جو نیت نیک ہے سود خوری اور سود خورانی مقصود نہیں"والی بات کا بھرم بھی کھل جاتا ہے

2۔ادارہ سودی کاروبار ہی کرتا ہے ادارے نے سود ہی کا نام منافع یا بونس رکھا ہوا ہے پھر کسی کارو بار کے حق و درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ کاروبار شرعاً حلال ہو کوئی بھی کاروبار اس وجہ سے حق و درست نہیں پاتاکہ وہ کاروبار ہے۔ دیکھئے خمرو خنزیر کی تجارت بھی حرام ہے مگر وہ کاروبار ہونے کی وجہ سے جائز و درست نہیں ہو پائی کیونکہ خمرو خنزیر کی تجارت شرعاً حرام ہے۔

3۔چونکہ یہ منافع سود کے زمرہ میں شامل ہے۔ اس لیے ناجائز ہے۔

4۔موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے خمرو خنزیر کی تجارت بھی انسان کی ضرورت کا ذریعہ ہو سکتی ہے۔ کاروبار عصمت فروش بھی انسان کی ضرورت کا ذریعہ ہو سکتا ہے تو کیا ضرورت کا ذریعہ ہونے یا ہو سکنے کی بنا پر خمروخنزیر کی تجارت اور کاروبارعصمت فروشی جائز و درست ہو جائیں گے؟ نہیں ہر گز نہیں تو بالکل اسی طرح کاروبارسود بیمہ یا غیرھم ضرورت کا ذریعہ ہونے کی بنا پر جائز و درست نہیں ہو گا کیونکہ شریعت نے خمرو خنزیر کی تجارت ، کاروبار عصمت فروشی اور کاروبار سود( وہ خواہ سود بیمہ ہو یا سود غیر بیمہ)کو حرام قرار دے دیا ہے۔

ادارہ جو رقم بطور منافع دیتا ہے وہ سود ہی ہے ۔اس کی شرح فکس ہو خواہ فکس نہ ہو سود کے فکس نہ ہونے سے نہ اس کی حقیقت بدلتی ہے اور نہ ہی اس کا حکم بدلتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وہ سود کا سود اور حرام کا حرام ہی رہتا ہے کیونکہ فکس ہونا نہ ہونا تو سود کا جزو ہے نہ ہی اس کی شرط ہے اور نہ اس کا لازم ہے۔

جہاں تک مجھے معلوم ہے پاکستان میں موجود بینکاری نظام میں شرعی مضاربت  نام کی کوئی چیز نہیں۔جس کو بینک والے نفع و نقصان کی شراکت والا کاروبار کہتے ہیں وہ بھی سود ہی ہوتا ہے آگے اس کی شرح فکس ہو خواہ فکس نہ ہو۔ وہ سود ہی رہتا ہے لہٰذا اسٹیٹ لائف انشورنس والوں کا سود کی شرح فیصد یا غیر فیصد کو مقرر و متعین نہ کرنا اس کارو بار کو سود ہونے سے نہیں نکالتا بلکہ وہ جوں کا توں سود ہی رہتا ہے اور سود حرام ہے۔

7۔زبانی کلامی نہیں یا"نہ "کہہ دینے سے واقعہ میں نہ ہونا لازم نہیں آتا ۔ پھر ان تینوں کے نہ ہونے کو تسلیم کر لینے سے بھی بیمہ کے سود ہونے کی نفی نہیں ہوتی بیمہ سود اور جوا ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔ اگر کوئی شخص اس کے جوانہ ہونے پر بضد ہو جائے تو بھی بیمہ سود ہونے کی وجہ سے حرام ہی ہو گا جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔

نوٹ:آپ کا فرمان "علم سے استفادہ کرنا نوع انسانی کا حق ہے"بجا مگر جس علم سے فائدہ حاصل کرنے کو شریعت نے گناہ قراردیا ہو اس سے فائدہ حاصل کرنا انسان کا حق نہیں مثلاً علم سحر،آپ علم سحر سے استفادہ نہیں کر سکتے کیونکہ شریعت نے اس کو کفر و گناہ قراردیا ہے۔

﴿وَما كَفَرَ سُلَيمـٰنُ وَلـٰكِنَّ الشَّيـٰطينَ كَفَروا يُعَلِّمونَ النّاسَ السِّحرَ وَما أُنزِلَ عَلَى المَلَكَينِ بِبابِلَ هـٰروتَ وَمـٰروتَ وَما يُعَلِّمانِ مِن أَحَدٍ حَتّىٰ يَقولا إِنَّما نَحنُ فِتنَةٌ فَلا تَكفُر فَيَتَعَلَّمونَ مِنهُما ما يُفَرِّقونَ بِهِ بَينَ المَرءِ وَزَوجِهِ وَما هُم بِضارّينَ بِهِ مِن أَحَدٍ إِلّا بِإِذنِ اللَّهِ وَيَتَعَلَّمونَ ما يَضُرُّهُم وَلا يَنفَعُهُم وَلَقَد عَلِموا لَمَنِ اشتَرىٰهُ ما لَهُ فِى الءاخِرَةِ مِن خَلـٰقٍ وَلَبِئسَ ما شَرَوا بِهِ أَنفُسَهُم لَو كانوا يَعلَمونَ ﴿١٠٢﴾... سورةالبقرة

"سلیمان نے تو کفر نہ کیا تھا، بلکہ یہ کفر شیطانوں کا تھا، وه لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے، اور بابل میں ہاروت ماروت دو فرشتوں پرجو اتارا گیا تھا، وه دونوں بھی کسی شخص کو اس وقت تک نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں تو کفر نہ کر، پھر لوگ ان سے وه سیکھتے جس سے خاوند وبیوی میں جدائی ڈال دیں اور دراصل وه بغیر اللہ تعالیٰ کی مرضی کے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، یہ لوگ وه سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچائے اور نفع نہ پہنچا سکے، اور وه بالیقین جانتے ہیں کہ اس کے لینے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اور وه بدترین چیز ہے جس کے بدلے وه اپنے آپ کو فروخت کر رہے ہیں، کاش کہ یہ جانتے ہوتے"

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے بھی سحر کو السبع الموبقات (سات ہلاک کر دینے والے گناہوں)میں شمار فرمایا ہے تو جس طرح علم سحر سے فائدہ  اٹھانا نوع انسانی کا حق نہیں کیونکہ شریعت نے سحراور سود دونوں سے منع فرمایا ہے۔پھر اگر اسی دلیل کو لے کر دو چار چور یا ڈاکو کہہ دیں کہ ہمارے کاروبار چوری اور ڈاکے کے ذریعے کی بنیاد علم ریاضی پر ہے آخر وہ بھی چوری یا ڈاکے کے ذریعہ ہتھیائے ہوئے مال کو ریاضی کے اوصول  کے تحت ہی تقسیم کریں گے تو کیا اس سے ان کا چوری یا ڈاکے والا کاروبار حق و درست بن جائے گا۔نہیں ہر گز نہیں تو بالکل اسی طرح سود بیمہ یا غیر بیمہ کی بنیاد علم ریاضی پر ہونے سے وہ جائز و حلال نہیں ہوگا بلکہ حرام کا حرام ہی رہے گا جناب کا فرمان "کائنات کے مادی وسائل کو استعمال کرنا بھی اس کا حق ہے" بجا مگر جن مادی وسائل سے شریعت نے منع فرما دیا ۔ ان کو استعمال کرنا اس (نوع انسان )کا حق نہیں مثلاً خمرو خنزیر کی تجارت کاروبار عصمت فروشی ،چوری اور ڈکیتی مادی وسائل میں شامل ہیں مگر ان کو استعمال کرنا نوع انسان کا حق نہیں کیونکہ اسلام نے اس سے منع فرما دیا ہے بالکل اسی طرح سود بیمہ اور سود غیربیمہ مادی وسائل میں شامل ہیں مگر ان کو استعمال کرنا نوع انسان کا حق نہیں کیونکہ اسلام نے اس سے بھی منع فرما دیا ہے۔

دیکھئے اگر کوئی اباجی ذہن رکھنے والا کہے، ماں ، بہن ، بیٹی، بھتیجی،خالہ ، پھوپھی، مملوکہ ، لونڈی اور بیوی تمام جنسی خواہش پورا کرنے کے وسائل ہیں اور جنسی خواہش کو پورا کرنے کے وسائل کو استعمال کرنا نوع انسان کا حق ہے تو آپ کا جواب کیا ہو گا؟ یہی ناکہ بیوی اور مملوکہ لونڈی کے علاوہ کو استعمال کرنا نوع انسان کا حق نہیں کیونکہ دین فطرت اسلام نے بیوی اور مملوکہ لونڈی کے علاوہ کو استعمال کرنے سے منع فرما دیا ہے چنانچہ قرآن مجید میں ہے:

﴿وَالَّذينَ هُم لِفُروجِهِم حـٰفِظونَ ﴿٥ إِلّا عَلىٰ أَزو‌ٰجِهِم أَو ما مَلَكَت أَيمـٰنُهُم فَإِنَّهُم غَيرُ مَلومينَ ﴿٦ فَمَنِ ابتَغىٰ وَراءَ ذ‌ٰلِكَ فَأُولـٰئِكَ هُمُ العادونَ ﴿٧﴾... سرةالمؤمنون

" بجز اپنی بیویوں اور ملکیت کی لونڈیوں کے یقیناً یہ ملامتیوں میں سے نہیں ہیں (6) جو اس کے سوا کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرجانے والے ہیں"

رہا آپ کا قول"کیا اس سے(بیمہ سے)صرف ترقی یافتہ ممالک ہی فائدہ لیں یا ہم بھی اس کاروبار سے فائدہ اٹھالیں ؟"تو اس کے جواب میں یہی عرض کروں گا کہ آپ ہی فرمائیں کیا خمرو خنزیر کی تجارت کاروبار عصمت فروشی ، چوری ڈکیتی کاروبار سحر اور دیگر حرام اشیاء سے صرف ترقی یا فتہ ممالک ہی فائدہ لیں یا ہم بھی ؟ تو واضح ہے کہ چونکہ آپ اباجی ذہن نہیں رکھتے نیز پکے سچے مسلم ہیں اس لیے یہی فرمائیں گے کہ ہم ان چیزوں سے فائدہ نہیں لیں گے کیونکہ دین فطرت اسلام نے ان چیزوں سے منع فرما دیا ہے باقی رہا ترقی یا فتہ یا غیر ترقی یافتہ ممالک یا کسی ایک ملک کا ان سے فائدہ لینا سووہ ہمارے لیے سند جواز نہیں۔ ہمارے لیے سند ودلیل صرف اور صرف کتاب و سنت ہے:

﴿"فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّسُولِ ﴾

"پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف"

تو یہ بات بالکل واضح ہے کہ سود بیمہ یا سود غیربیمہ سے ترقی یا فتہ ممالک یا غیر ترقی یافتہ ممالک فائدہ لیں خواہ نہ لیں ۔ ہم اس کاروبار سے فائدہ نہیں لے سکتے کیونکہ کتاب وسنت نے اس کارو بار کو حرام قراردیا ہے جیسا کہ خمرو خنزیر کی تجارت سے کوئی ترقی یافتہ یا غیر ترقی یافتہ ممالک فائدہ لے یا نہ لے، ہم خمرو خنزیر کی تجارت والا کاروبار نہیں کر سکتے۔اس لیے کہ کتاب و سنت نے اس کاروبار کو حرام قراردیا ہے۔ واللہ اعلم(مجلۃ الدعوۃ مارچ 1997ء)

کیا سود صرف پیسے کے لین دین میں ہوتا ہے؟

محترمی و مکرمی جناب حافظ المنان صاحب  !

السلام علیکم مزاج بخیر!

آپ کا مضمون نما مکمل اور مدلل جواب مارچ 97ء کے مجلہ میں پڑھا جو کہ اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کے بارے میں تھا۔ آج سے کوئی سات آٹھ سال قبل میں بھی اسی طرح کے دلائل اور کئی ایک مولانا کے بیانات سے بھرا ہوا کتابچہ پڑھ کر اور متاثر ہو کر بیمہ کراکر پھنس گیا تھا مگر گزشتہ سال 1996ء کے مجلہ میں سوال و جواب کے کالم میں بیمہ کے بارے میں جواب ملا۔ پھر اس کے بعد میں نے اس کمپنی کو چھوڑدیا اور الحمداللہ کافی سے زیادہ مطمئن ہوں۔ ایک اسی نوعیت کے مسئلہ کے حل کے بارے میں آپ کو زحمت دینی تھی میں امید کرتا ہوں کہ آپ اسی طرح کا مکمل جواب عنایت فرما کر مزید مشکورہونے کا موقع دیں گے۔

1۔ہمارے علاقہ کے آڑھتی صاحب اور بڑے زمیندار لوگ چھوٹے اور غریب کسانوں کو کھاد اور زرعی ادویات فصل کے قرضہ پر دیتے ہیں۔ ان کا طریقہ کار کچھ اس طرح ہوتا ہے کہ مثلاً اگر ایک گٹو کھاد کا نقد روپے دے کر خریداجائےتو اس کے وہ 300روپے وصول کریں گے اور اگر ادھار یعنی موجودہ فصل کاٹ کر آپ کو رقم لوٹا دیں جو کہ پانچ چھ ماہ کا عرصہ ہوتا ہے تو وہ اس کسان کے کھاتہ میں 350روپے وصول کرتے ہیں اسی طرح زرعی ادویہ کا ہے کہ اگر ایک لٹرکی دواپر 500روپے نقد ہے تو ادھار میں وہی دوا 650 روپے کی ملتی ہے۔آپ سے پوچھنا یہ تھا کہ آیا یہ جو اضافی رقم ادھار کے ساتھ وصول کرتے ہیں کیا یہ مجبوری سے فائدہ اٹھا کر(سود )میں شامل نہیں ہو جاتی ۔ جب کہ ان سے بحث کرنے پر وہ کہتے ہیں کہ سود پیسے کے لین دین میں ہوتا ہے۔اس میں ایک طرف جنس ہے اور دوسری طرف روپے۔اس کی مثال وہ ایک پلاٹ کی دیتے ہیں کہ آپ نے ایک پلاٹ لاکھ روپے میں خریدا۔ایک سال بعد آپ کا وہی پلاٹ سوا لاکھ میں فروخت ہوتا ہے۔آیا وہ اوپر والی رقم سود ہو گی۔ جو یقیناً نہیں ہے۔ اس طرح وہ اس کو کاروباری منافع سمجھتے ہیں اور جائز قراردیتے ہیں۔ ہم نے امام مسجد صاحب سے معلوم کیا تو انھوں نے اس کو جائز قراردیتے ہوئے کہا کہ زیادتی منافع ہے۔سود نہیں ہے اسلام میں بیع جائز ہے نہ کہ سود۔ آپ سے گزارش ہے کہ آپ اس معاملہ میں میری ضرور راہنمائی فرمائیں۔

2۔قسطوں والے کاروبار کی اسلام میں کیا نوعیت ہے وہ بھی اس طرح ایک 1000ہزار کی قسط وار کچھ عرصہ بعد چودہ سو1400تک وصول کر لیتے ہیں(بشیر رزاق ،کچا کھوہ خانیوال )

جواب۔از عبد المنان نور پوری بطرف جناب بشیر عبد الرزاق صاحب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!

آپ کا مکتوب موصول ہوا جس میں دو سال اور دو شبہے مذکورہیں۔ ان دونوں سوالوں کا جواب مجلۃ الدعوۃ 7/6مورخہ 1417ھ میں حافظ عبد السلام صاحب بھٹوی حفظہ اللہ تبارک و تعالیٰ دے چکے ہیں۔ چنانچہ وہ مذکورہ بالا شمارہ کے ص22پر لکھتے ہیں۔

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خریدو فروخت کی وہ سب صورتیں حرام فرما دی ہیں جن میں سود کی آمیزش ہے۔ ان میں سے ایک صورت وہ ہے جو ترمذی کی صحیح حدیث میں مذکورہے کہ:

(نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة) "نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک بیع میں دو بیعوں سے منع فرمایا"

اس کی تشریح اہل علم یہ فرماتے ہیں کہ اگر نقد لوتو اتنی قیمت ہے اور اگر ادھار لو تو اور قیمت ہے۔ مثلاً نقد دس روپے کی ہے اور ادھار پندرہ روپے کی۔بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے مگر اس کے منع ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس بات کا تعین نہیں کیا گیا کہ وہ نقد لے گایا ادھار۔اگر پہلے طے کر لے کہ میں تمھیں نقددوں گا تو جائز ہے۔ اصل سبب ایک قیمت کا معلوم اور متعین نہ ہونا ہے اگر معلوم ہو جائے کہ نقد لینا ہے۔ اسےدس روپے میں دے تو ٹھیک ہے۔ یا طے ہو جائے کہ ادھار لینا ہے اورپندرہ روپے میں دے تب بھی ٹھیک ہے۔ یہ رائے کئی جید علماء بھی دیتے ہیں۔ انھوں نے اسے جائز قراردیا ہے۔ قسطوں پر زیادہ قیمت کے ساتھ فروخت کرنے کو بھی انھوں نے جائز قراردیا ہے۔ مثلاً ایک چیز نقد لاکھ روپے کی اور قسطوں پر سوالاکھ بشرطیکہ پہلے طے ہوجائے نقد لینی ہے یا ادھار لینی ہے۔

میرے بھائیو! جہاں تک میں نے احادیث کا مطالعہ کیا ہے اور پڑھا ہے ان علماء کی بات درست نہیں چونکہ ابو داؤد شریف میں یہی حدیث تفصیل کے ساتھ آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

 ((مَنْ بَاعَ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ فَلَهُ أَوْكَسُهُمَا أَوِ الرِّبَا ))

"جو شخص ایک بیع میں دو بیع کرتا ہے یا تو کم قیمت لے یا پھر وہ سود ہو گا۔"

اس سے معلوم ہوا کہ اس بیع کی حرمت کا اصل سبب سود ہے قیمت کا غیر متعین ہونا نہیں ہے۔ آپ غور کریں اور دانائی سے سمجھنے کی کوشش کریں۔ کسی شخص کو اگر آج قیمت ملے تو دس روپے کی چیز دیتا ہے اور ایک ماہ بعد قیمت ملتی ہے تو وہ پندرہ روپے کی دیتا ہے وہ پانچ روپے زائد کس چیز کے لے رہا ہے۔ صاف ظاہرہے۔اس نے وہ پانچ روپے مدت کے عوض لیے ہیں اور یہی سود ہے (حافظ عبد السلام بھٹوی صاحب کا کلام ختم ہوا)

رہے دو شبہے تو ان میں سے پہلا شبہ ہے کہ:

1۔سود پیسے کے لین دین میں ہوتا جبکہ اس میں ایک طرف جنس ہے اور دوسری طرف روپے۔ یہ شبہ بالکل بے بنیاد ہے۔ کیونکہ سود پیسے کے لین دین میں بھی ہوتا ہے جنس کے لین دین میں بھی اور جنس و پیسے کے لین دین میں بھی ۔ قرآن مجید کی کسی آیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی کسی حدیث میں یہ بات نہیں آئی کہ سود صرف پیسے کے لین دین میں ہوتا ہے۔ جنس کے لین دین اور جنس و پیسے کے لین دین میں سود نہیں ہوتا۔بلکہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

"رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ وَالشَّعِيرُ "

"گندم گندم کے بدلے سود ہے مگر برابر برابر نقد بنقد ، جوَ جوَ کے بدلے سود ہے مگر برابربرابرنقد بنقد ، کھجور کھجور کے بدلے سود ہے مگر برابر برابر نقد بنقد ۔"

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ فرمان اس بات کی دلیل ہے کہ جنس کے لین دین میں بھی سودہوتا ہے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا پہلے مذکور فرمان کہ"جس نے ایک بیع میں دو بیعیں کیں تو اس کے لیے ان دونوں میں سے کم ہے یا "سود "اس امر کی دلیل ہے کہ پیسے اور جنس کے لین دین میں بھی سود ہوتا ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے اس فرمان میں نہ تو پیسے کی تخصیص فرمائی ہے اور نہ جنس کی تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ فرمان تینوں صورتوں کو شامل ہے اور دوسرا شبہ ہے۔

2۔"آپ نے ایک پلاٹ لاکھ روپے میں خریدا ایک سال بعد آپ وہی پلاٹ سوا لاکھ میں فروخت ہوتا ہے۔آیا وہ اوپر والی رقم کیاسود ہو گی؟ جو یقیناً نہیں ہے۔ اسی طرح وہ اس کوکاروبای منافع سمجھتے ہیں اور جائز قراردیتے ہیں ۔"

اس شبہ میں ایک سال بعد والی بات بالکل بے معنی ہے کیونکہ بسا اوقات آدمی ایک پلاٹ لاکھ میں خریدتاہے اور خریدلینے کے فوراً بعد اس کو اسی پلاٹ کا سوالاکھ دینے والے موجود ہوتے ہیں۔ دراصل یہ شبہ وہی ہے جس کا قرآن مجید نے رد کر دیا ہے۔

﴿ ذ‌ٰلِكَ بِأَنَّهُم قالوا إِنَّمَا البَيعُ مِثلُ الرِّبو‌ٰا۟ وَأَحَلَّ اللَّهُ البَيعَ وَحَرَّمَ الرِّبو‌ٰا۟ ...﴿٢٧٥﴾... سورةالبقرة

"یہ(عذاب ان کو)اس وجہ سے ہوگا کہ وہ کہتے تھے کسی چیز کا بیچنا بھی سود کی طرح ہے اور اللہ نے بیچنے کو درست کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔"(اشرف الحواشی)

رہی کارو باری منافع والی بات تو معلوم ہونا چاہیے کہ ہر کاروباری نفع شریعت میں جائز نہیں کیونکہ سود بھی کارو باری نفع ہے مگر شریعت نے اس کو حرام اور ناجائز قراردیا ہے تو پلاٹ لاکھ میں خرید کر اسی وقت یا سال بعد سوالاکھ میں بیچنا سود نہیں۔ جس طرح کوئی چیز دس روپے میں خرید کر اسی وقت یا سال بعد بارہ روپے میں فروخت کرنا سود نہیں بلکہ یہ حلال اور جائز بیع ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

"وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ"

جب کہ ادھار کی وجہ سے زائد قیمت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے فرمان:

((مَنْ بَاعَ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ فَلَهُ أَوْكَسُهُمَا أَوِ الرِّبَا ))

"جو شخص ایک ربیع میں دو بیع کرتا ہے یا تو کم قیمت لے یا پھر وہ سود ہو گا۔"

میں سود قراردیا ہے۔ اس لیے یہ نفع محض اس لیے کہ کاروباری ہے جائز نہیں ہو گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے فرمان کے مطابق سود کے زمرہ میں آتا ہے تو سود والے حرام نفع کو حلال بیع سے حاصل شدہ حلال نفع پر قیاس کرنا درست نہیں۔ اس کی مثال ایسے سمجھیں جیسے کوئی خمرو شراب کی تجارت یا خنزیر کی تجارت سے حاصل شدہ نفع کو شربت بزوری شربت بنفشہ  یا گائے بیل کی تجارت سے حاصل شدہ نفع پر قیاس کرنا شروع کردے۔

تو جس طرح یہ قیاس درست نہیں بالکل اسی طرح پہلا ادھار زائد قیمت اور پلاٹ والا قیاس بھی درست نہیں۔ فرق صرف بیع میں ہے۔

مزید وضاحت کے لیے دیکھئے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ انسان کا اپنے باپ کی بیٹی کے ساتھ نکاح جائز ہے کیونکہ اس کا اپنے چچا کی بیٹی سے نکاح جائز ہے۔ آخر دونوں عورتیں ہی تو ہیں تو یہ قیاس درست نہیں ہو گا۔کیونکہ باپ کی بیٹی کے ساتھ نکاح شریعت میں حرام ہے۔ بالکل اسی طرح سود بھی کارو باری نفع ہے مگر سود والا نفع حرام اور حلال تجارت سے حاصل شدہ نفع حلال ہے اور حرام کو حلال پر قیاس کر کے حرام کو حلال نہیں بنایا جا سکتا۔واللہ اعلم۔

تمام احباب واخوان کی خدمت میں ہدیہ سلام پیش فرمادیں۔ بشیر رزاق کی بجائے عبدلرزاق لکھوایا اور کہلوایاکریں۔(والسلام (مجلۃ الدعوۃ جون1997ء)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

آپ کے مسائل اور ان کا حل

جلد2۔كتاب البيوع۔صفحہ نمبر 458

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ