سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(57) محض شک سے وضو کرنا

  • 20318
  • تاریخ اشاعت : 2017-04-10
  • مشاہدات : 542

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض اوقات دورانِ نماز وضو ٹوٹنے کا شک پڑ جاتا ہے ، ایسی حالت میں نماز ختم کر کے دوبارہ وضو کرنا چاہیے یا اپنی نماز کو جاری رکھا جائے، قرآن و حدیث کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت کر دیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب طہارت کے متعلق یقین ہو جائے تو محض شک کی وجہ سے عدم طہارت کا حکم نہیں لگایا جا سکتا ہے تاوقتیکہ حدث کا یقین نہ ہو جائے ۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے متعلق سوال کیا گیا جو دوران نماز اپنے پیٹ میں کچھ محسوس کرتا ہے ، آیا اس کا وضو باقی ہے یا نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نماز سے نہ نکلے یہاں تک کہ خروج ریح کی آواز سنے یا بدبو پائے۔ [1] اس حدیث سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ طہارت حاصل کر نے کے بعد اصل طہارت اور پاکیزگی ہے تاوقتیکہ اس کا بے وضو ہونا یقینی طور پر ثابت ہو جائے ۔ شک کی صورت میں اس کی طہارت زائل نہیں ہو گی بلکہ باقی اور بر قرار رہے گی لہٰذا محض شک پڑنے سے نماز ختم نہ کی جائے بلکہ اس صورت میں اس کا نماز میں مصروف رہنا صحیح اور درست ہے ہاں اگر اس کا بے وضو ہونا یقینی طور پر ثابت ہوجائے تو نماز ختم کر کے دوبارہ وضو کر ے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یقینی طور پر بے وضو ہونے کی دو علامتیں بیان کی ہیں: نکلنے والی ہوا کی آواز سنے یا اس کی بدبو پائے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس کے بغیر بھی بے وضو ہونے کا یقین ہو جائے تو بھی اسے دوبارہ وضو کرنا ہو گا، یقین ہو جانے کے بعد ہوا کی آواز یا اس کی بدبو کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ (واللہ اعلم)


[1] صحیح بخاری، الوضو، ۱۳۷۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔ صفحہ نمبر:88

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ