سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(46) دوران نماز سلام کا جواب

  • 20307
  • تاریخ اشاعت : 2017-04-10
  • مشاہدات : 187

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا دورانِ نماز سلام کا جواب دیا جا سکتا ہے ؟ اس کی کتاب و سنت سے کوئی دلیل ہو تو ضرور ذکر کریں، پھر اگر جواب دینا جائز ہے تو کیسے دیا جائے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 اگر کوئی نماز پڑھ رہا ہے تو اس دوران باہر سے آنے والا شخص سلام کہے تو دوران نماز و علیکم السلام کہنے کے بجائے وہ اپنے ہاتھ کے اشارے سے اس کا جواب دے گا، چنانچہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ دوران نماز جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگ سلام کہتے تو کیا آپ انہیں جواب کہہ دیتے تھے؟ تو انھوں نے کہا’’اس طرح کرتے ‘‘ پھر انھوں نے اپنا ہاتھ پھیلا دیا۔ [1] دوران نماز باہر سے آنے والے کو چاہیے کہ اگر وہ سلام کہنا چاہتا ہے تو بآ واز بلند سلام کہنے کے بجائے اپنی آواز کو ذرا آہستہ کرے تاکہ دوسرے نمازی خلل اندازی کا شکار نہ ہو ں اور نمازی کو چاہیے کہ وہ منہ سے وعلیکم السلام کہنے کے بجائے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس کا جواب دے دے۔ ( واللہ اعلم)


[1] ابو داؤد، الصلوة:۹۲۷۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔ صفحہ نمبر:80

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ