سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(445) خاوند کا بیوی پر نکاح نہ کرنے کی شرط لگانا

  • 20093
  • تاریخ اشاعت : 2017-04-05
  • مشاہدات : 493

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شوہر نے اپنی بیوی کو اس امر کا پابند کیا ہے کہ اگر وہ پہلے فوت ہو گیا تو وہ دوسری شادی نہیں کرے گی، اب وہ خاوند فوت ہو چکا ہے۔ کیا وہ عورت اپنے خاوند کے عہد کی پاسداری کرے یا شرعاً وہ نکاح کر سکتی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

خاوند کی وفات کے بعد صرف امہات المومنین رضی اللہ عنھم کے لیے پابندی تھی کہ وہ کسی اور سے شادی نہیں کر سکتی تھیں، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِيْمًا﴾[1]

’’نہ تمہیں یہ جائز ہے کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف دو اور نہ تمہارے لیے یہ حلال ہے کہ آپ کے بعد کسی وقت آپ کی بیویوں سے نکاح کرو، اللہ کے نزدیک یہ بہت برا گناہ ہے۔‘‘

 امہات المومنین رضی اللہ عنھم کے بعد کسی عورت کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ بلاوجہ اپنے آپ کو عقد ثانی سے باز رکھے اگرچہ عقد ثانی اس کے لیے واجب یا ضروری بھی نہیں ہے لیکن اس طرح کے عہد و پیمان کی پاسداری بھی ضروری نہیں ہے، حدیث میں ہے: ’’اطاعت صرف نیکی کے کام میں ہے۔‘‘ [2]

 ہاں اگر کسی عورت کی اپنے خاوند سے بہت محبت تھی اور وہ جنت میں بھی اس کی رفاقت چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ اس کی وفات کے بعد کسی دوسرے خاوند سے شادی نہ کرے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’عورت (جنت میں) اپنے آخری شوہر کی بیوی ہو گی۔‘‘ [3]

 چنانچہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے فرمایا تھا اگر تم چاہتی ہو کہ جنت میں میری بیوی بنو تو میرے بعد کسی اور سے شادی نہ کرنا، عورت جنت میں اپنے آخری دنیوی خاوند کی بیوی ہو گی، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نکاح ممنوع قرار دیا تھا۔ [4]

 بہرحال عورت اس طرح کے عہد و پیمان کی پابند نہیں ہے اگر چاہے تو عقد ثانی کر سکتی ہے اور اگر اپنے خاوند کی جنت میں بیوی رہنا پسند کرتی ہے تو عقد ثانی نہ کرے، اس جذبہ کے تحت عہد و پیمان کی پاسداری کرنے میں چنداں حرج نہیں ہے۔ (واللہ اعلم)


[1] ۳۳/الاحزاب:۵۳۔ 

[2]  مسند امام احمد،ص: ۱۲۴،ج۱۔

[3]  احادیث صحیحہ، رقم:۱۲۸۱۔    

[4] بیہقی، ص: ۶۹،ج۷۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد:3، صفحہ نمبر:375

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ