سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(435) مطلقہ کا نکاح ثانی کرنا

  • 20084
  • تاریخ اشاعت : 2017-04-05
  • مشاہدات : 640

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 میرے خاوند نے عرصہ دو سال سے مجھے طلاق دے کر اپنی زوجیت سے فارغ کردیا ہے، اب میرا اللہ کے علاوہ اور کوئی سہارا نہیں ہے، میں زندگی گزارنے کے لیے کسی سہارے کی تلاش میں ہوں، کیا شریعت کی رو سے مجھے نکاح ثانی کرنے کی اجازت ہے؟ ازراہ کرم اس سلسلہ میں میری راہنمائی فرمائیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جس عورت کو طلاق دی جاتی ہے دوران عدت خاوند کو اس سے رجوع کرنے کا پورا پورا حق ہوتا ہے، عدت گزارنے کے بعد عورت آزاد ہے، شریعت نے اسے نکاح ثانی کرنے کی اجازت دی ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ ﴾[1]

’’اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہو جائے تو انہیں دوسرے شوہروں کے ساتھ نکاح کرنے سے مت روکو جبکہ وہ آپس میں معروف طریقہ کے مطابق رضا مند ہوں۔‘‘

 اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کو طلاق دے چکا ہے اور عورت عدت گزارنے کے بعد کہیں دوسری جگہ نکاح کرنا چاہتی ہے تو اس کے سابقہ شوہر کو ایسی گھٹیا حرکت اور کمینگی نہیں کرنی چاہیے کہ اس کے نکاح میں رکاوٹ بنے اور یہ کوشش کرے کہ جس عورت کو اس نے چھوڑا ہے اسے کوئی دوسرا اپنے نکاح میں لانا پسند نہ کرے، کیونکہ دوسری جگہ نکاح کرنا عورت کا حق ہے، سابق شوہر کو اس حق میں حائل ہونے کی شرعاً اجازت نہیں ہے لیکن نکاح ثانی کے لیے چند چیزوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

٭ اپنے سر پرست کی اجازت انتہائی ضروری ہے اس کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔

٭ حق مہر اور گواہوں کی موجودگی بھی لازمی ہے۔

٭ اس نکاح کو خفیہ نہ رکھا جائے بلکہ جہاں عورت رہائش پذیر ہے اس کے قرب و جوار میں رہنے والوں کو اس نکاح کا علم ہونا چاہیے۔ صورت مسؤلہ میں سائلہ کو مذکورہ شرائط ملحوظ رکھتے ہوئے نکاح ثانی کرنے کی اجازت ہے شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (واللہ اعلم)


[1] ۲/البقرۃ: ۲۳۲۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد:3، صفحہ نمبر:368

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ